��الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ستمبر سے ایسے فیصلے لینے شروع کردیے ہیں جس سے اس ادارے کے حوالے سے شکایات میں کمی آنی شروع ہوئی ہے -آج اس میں ایک اور حکم سپیکر قومی اسمبلی کو جاری کیا گیا اور اس کی وجہ بھی بیان کردی گئی -الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے سیکرٹری قومی اسمبلی کو ایک خط ارسال کیا گیا جس میں قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں بھرتیوں کا عمل روکنے کی ہدایت کی گئی ہے ۔ خط کے متن میں کہا گیا ہے کہ ملک میں قانون کے مطابق آزادانہ،شفاف و دیانتداری سے انتخابات کا انعقاد یقینی بنانا الیکشن کمیشن کی ذمہ ذاری ہے اور یہ کہ بدعنوانی پر مبنی اقدامات آرٹیکل 218(3) کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتے ہیں ۔

خط میں لکھا گیا کہ یہ بات قابل ذکر ہے کہ الیکشن کمیشن نے ہر قسم کی بھرتیوں کے عمل پر مکمل پابندی عائد کررکھی ہے تاکہ ان بھرتیوں کا انتخابات کے انعقاد میں کوئی اثرنہ پڑے ،چونکہ اسپیکر قومی اسمبلی ماضی کے تمام انتخابات میں ہمیشہ امیدوار رہے ہیں اور امکان ہے کہ آنیوالےاسپیکراسمبلی کے بھی امیدوار ہونگےلہٰذا قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں کوئی بھرتی نہ کی جائے۔اسمبلیاں تحلیل ہونے کے بود تمام ممبران قومی اور صوبائی اسمبلی تو اسمبلیوں کا حصہ نہین رہتے مگر صرف سپیکر وہ واحد عہدہ ہے جو اگلے الیکشن کی پہلی حکومت بننے کے وقت تک کام کرتا ہے او پھر نئے اسمبلی سپیکر کے منتخب ہونے کے بعد اپنی سپیکر کی کرسی اس کے حوالے کرتا ہے اب جب بھی انتخابات ہوں گے راجہ پرویز اشرف خواہ اگلا الیکشن بھی نہ لڑیں اسمبلی کی پہلی کاروائی کے لیے وہ ہی اجلاس کی صدارت کریں گے اور اسمبلی کی پہلی کاراوئی ان ہی کی زیر نگرانی ہوگی –