بنگلہ دیش کے کھلاڑی تمیم اقبال نے کہاہے کہ وہ ورلڈکپ کے لیے بھارت اس لیے نہیں جاسکیں گے کیونکہ وہ بنگلہ دیشی کرکٹ بورڈ کی جانب سے ان کے لیے رکاوٹیں پیدا کرنے سے تنگ آچکے تھے۔ تمیم نے دعویٰ کیا کہ کرکٹ بورڈ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے انہیں بیٹنگ آرڈر میں نیچے کے نمبروں پر آکر کھیلنے کو کہا تھا۔ رپورٹس کے مطابق تمیم نے بیٹنگ آرڈ میں نیچے کھیلنےسے مبینہ طور پر انکار کر دیا تھا۔
اوپنر تمیم اقبال نے جولائی میں انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا فیصلہ واپس لیتے ہوئے ایشیا ءکپ اور ورلڈکپ کھیلنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا تاہم پہلے کمر کی انجری کے باعث وہ ایشیا ءکپ سے باہر ہوئے۔بعد ازاں رپورٹس میں بتایا گیا کہ نیوزی لینڈ کے خلاف ون ڈے سیریز میں واپسی کے بعد کمر میں دوبارہ تکلیف ہونے کے باعث وہ اب ورلڈکپ سکواڈ سے بھی باہر ہوگئے۔جیسے رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ اوپننگ بیٹر کو ان کی ناقص فٹنس کی وجہ سے ڈراپ کیا گیا لیکن تمیم اقبال نے بدھ کو فیس بک پر ایک ویڈیو میں دعویٰ کیا کہ ورلڈ کپ سے قبل ان کے پاس مکمل فٹ ہونے کے لیے کافی وقت تھا۔
شکیب الحسن نے ورلڈ کپ سے قبل تمیم اقبال کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور انہیں ‘بچگانہ’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ‘ٹیم مین’ نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘مجھے یقین ہے کہ جس نے تمیم کو اپنا نمبر تبدیل کرنے کا مشورہ دیا ، اس نے ٹیم کے بارے میں سوچا’۔ بنگلہ دیشی کپتان نے کہا کہ میچ کے لیے ٹیم کمبی نیشن بنانے میں بہت سی چیزیں شامل ہوتی ہیں، تو اگر کسی نے تمیم سے یہ کہا ہے تو کیا یہ غلط تھا؟-انہوں نے تمیم کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ میں صرف کسی کو بتا رہا ہوں کہ آپ جو چاہیں کر سکتے ہیں، یہ بتائیں کہ ٹیم پہلے ہے یا انفرادی شخص؟۔شکیب الحسن نے کہا کہ روہت شرما نے اپنا کیریئر نمبر 7 سے شروع کیا اور پھر اوپننگ کرتے ہوئے 10ہزار رنز بھی بنالیے، اگر وہ کبھی نمبر 3 یا 4 پر بیٹنگ کریں تو کیا یہ ایک بڑا مسئلہ ہوگا؟ یہ بالکل بچگانہ سوچ ہے۔

بنگلہ دیشی کپتان نے تمیم اقبال کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا اگر آپ نے 100 یا 200 رنز بنائے اور ٹیم ہار جائے۔ آپ اپنی ذاتی کامیابی کے ساتھ کیا کر سکتے ہیں؟ کیا آپ صرف اپنا نام بنانا چاہتے ہیں؟ شکیب الحسن نے مزید کہا کہ ایسے تو آپ ٹیم کے بارے میں بالکل نہیں سوچ رہے ۔ اگر آپ صرف اپنے بارے میں سوچ رہے تو آپ ٹیم مین نہیں ہیں، آپ انفرادی ریکارڈ، کامیابی، شہرت اور نام کے لیے کھیل رہے ہیں اور ٹیم کے لیے نہیں۔