صدر مملکت عارف علوی کی جانب سے الیکشن کی تاریخ تجویز کرنے کے معاملے پر الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اجلاس طلب کرلیا ہے ۔

اہم مشاورتی اجلاس کل پر رکھا گیا ہے ا تاہم ابھی تک اجلاس کے وقت کا تعین نہیں ہوسکاہے ، چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی صدارت میں ہونیوالے اجلاس میں چاروں ممبران اور قانونی ماہرین شرکت کریں گے ، اجلاس کےد وران صدر مملکت کی جانب سے لکھے جانیوالے خط کے قانونی پہلوؤں پر غور کیا جائے گا ۔

آج شام صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کے نام خط لکھاہے جس میں ان کا کہنا تھا کہ صدرنے 9 اگست کو وزیراعظم کے مشورے پر قومی اسمبلی کو تحلیل کیا، آئین کے آرٹیکل 48(5) کے تحت صدر کا اختیار ہے کہ اسمبلی میں عام انتخابات کے انعقاد کے لیے، تحلیل کی تاریخ سےنوے دن کے اندر کی تاریخ مقرر کرے، آرٹیکل 48(5) کے مطابق قومی اسمبلی کیلئے عام انتخابات قومی اسمبلی کی تحلیل کی تاریخ کے 89ویں دن یعنی پیر 6 نومبر 2023 کو ہونے چاہئیں، آئینی ذمہ داری پورا کرنے کی خاطر چیف الیکشن کمشنر کو ملاقات کے لیے مدعو کیا گیا تاکہ آئین اور اسکے حکم کو لاگو کرنے کا طریقہ وضع کیے جا سکے ، چیف الیکشن کمشنر نے جواب میں برعکس مؤقف اختیار کیا کہ آئین کی اسکیم اور فریم ورک کے مطابق یہ الیکشن کمیشن کا اختیار ہے۔اس لیے اب صدر مملکت نے تاریخ دے کر الیکشن کمیشن کو بتادیا کہ قانون اور آئین کے مطابق ہم نوے روز سے آگے نہیں جاسکتے اب الیکشن کمیشن مشاورت کے بعد کوئی بیان جاری کرے گا -اگر الیکشن کمیشن نے اس پر عمل نہ کیا تو پھر اس کا فیصلہ ملک کی سب سے بڑی عدالت ہی کرے گی –