پاکستان کے موجودہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال 16 ستمبر کو اپنے عہدے سے ریٹائر ہورہے ہیں -اپنی ریٹائرمنٹ سے قبل اب وہ الوداعی ملاقاتیں کررہے ہیں -آج اسی طرز کی ایک تقریب میں سبکدوش ہونے والے چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے نامزد چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اپنی الوداعی تقریر میں تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ” بلاشبہ میرے بھائی جسٹس قاضی فائز عیسیٰ قابل تعریف ہیں، جسٹس قاضی فائز میرے لیے بہت معتبر ہیں“۔
الواداعی تقریب کے دوران نجی ٹی وی کے صحافی نے چیف جسٹس عمر عطا بندیال سے سوال کیا کہ کیا آپ فل کورٹ ریفرنس لے رہے ہیں؟ اس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ میں نے ابھی تک اس بارے میں نہیں سوچا اورفیصلہ نہیں کیا۔جسٹس عمر عطا بندیال نے مسکراتے کہا کہ کیا آج والا ریفرنس کافی نہیں ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ ایک ہی شخص کو سن سن کر آپ لوگ ہی بور ہوجائیں گے۔

 

اس کے بعد صحافی نے نامزد چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے سوال کیا کہ کیا چیف جسٹس کو فل کورٹ ریفرنس دیا جارہا ہے؟ اس پر جسٹس قاضی نے کہا کہ ہم بھی انتظار کررہے ہیں جیسے پتا چلے گا بتادیں گے، ویسے انہوں نے آج تقریرمیں توکہا ہے کہ شاید یہ ان کا آخری خطاب ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ عدالتی روایت کے مطابق جمعرات کو نامزد چیف جسٹس تمام ججزکو عشائیہ دیں گے جس میں سبکدوش ہونے والے چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کو بھی مدعو کیا گیا ہے۔یاد رہے کہ موجودہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال اور قاضی فائز عیسیٰ میں کئی معاملات پر اختلافات رہے جس کا تزکرہ میڈیا پر بھی چلتا رہا –