اسلام آباد: قومی اسمبلی سیکریٹریٹ نے بدھ کے روز کیپٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ایم این ایز سے مراعات واپس لینے کا حکم دیا۔
تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے سی ڈی اے کو پی ٹی آئی ایم این ایز کے پارلیمنٹ لاجز کی الاٹمنٹ معطل کرنے کی ہدایت جاری کر دی۔

Capital Development Authority (Islamabad) - Wikipedia

Image Source: Wikipedia

سی ڈی اے نے پہلے مرحلے میں پی ٹی آئی کے 81 ایم این ایز کو پارلیمنٹ لاجز چھوڑنے کے لیے ایک ہفتے کا وقت دیا ہے اور ان سے کہا ہے کہ وہ بقایا جات کی ادائیگی کریں۔
ذرائع نے بتایا کہ سی ڈی اے نے پی ٹی آئی کے قانون سازوں کو پارلیمنٹ لاجز خالی کرنے کا باضابطہ نوٹس بھی جاری کیا۔
کسی کو بھی زیر التواء واجبات کی ادائیگی کے بغیر جانے اور عمارت کا کوئی بھی سامان اپنے ساتھ لے جانے کی اجازت نہیں ہے۔
اس سے قبل، الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مزید 43 اراکین قومی اسمبلی (ایم این اے) کے استعفے قومی اسمبلی کے اسپیکر راجہ پرویز اشرف کی جانب سے منظور کیے جانے کے بعد ڈی نوٹیفائی کیے تھے۔
اس سے قبل پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل اسد عمر نے اپنی ٹوئٹ میں کہا تھا کہ پی ٹی آئی کے 44 ایم این ایز نے استعفے واپس لینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی سپیکر قومی اسمبلی سے ایک ہی بار میں تمام استعفے منظور کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے لیکن وہ ایسا کرنے سے گریزاں رہے کیونکہ انہوں نے قانون سازوں سے ملاقات کے بعد ایک ایک کر کے استعفے منظور کرنے کا اعلان کیا۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ پی ٹی آئی کے ایم این ایز کی قومی اسمبلی میں واپسی کے اعلان کے بعد، وفاقی حکومت نے اپوزیشن کے قانون سازوں کی طاقت کو کم کرنے کے لیے بظاہر ان کے استعفے منظور کرنے کا اقدام کیا۔
پاکستان تحریک انصاف نے گزشتہ سال 11 اپریل کو شہباز شریف کے نئے وزیراعظم منتخب ہونے سے چند منٹ قبل قومی اسمبلی سے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا تھا۔