چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے عمران خان کو مشورہ دیا تھا کہ آپ اسمبلیوں میں واپس جائیں تو خان نے ان کی بات مان کر اسمبلی جانے کا اشارہ دیا تو حکومت نے 48 گھنٹوں میں پی ٹی آئی کے 35 ارکان کے استعفے منظور کرلیے اور کل جب کپتان نے باقی ارکان اسمبلی کو اسلام آباد بلایا تو راجہ پرویز اشرف نے مذید 35 ارکان کے استعفے بھی منظور کرلیے گئے -ا ب لگتایہی ہے کہ حکومت تحریک انصاف کے اور ارکان قومی اسمبلی کے استعفے کم کرکے ان کی تعداد 22 سے کم کردے گی تاکہ راجہ ریاض کو اپوزیشن لیڈر کے عہدے سے ہٹایا نہ جاسکے اور وہ اپنی مرضی کا نگران وزیراعظم تعینات کرلیں مگر عدالت اس میں انٹروین کرسکتی ہے کیونکہ پاکستان بھر میں اس حکومت کے فیصلوں پر صحافی اور پی ڈی ایم سے ناراض ان کے اپنے سیاستدان کھل کر بولنے لگے ہیں -اب دیکھنا یہ ہے کہ عدالت سپیکر کے اس طرزعمل کو قبول کرتی ہے یا اس سپیکر کے ساتھ ہی وہی کچھ ہوگا جو قاسم سوری کے ساتھ ہوا تھا –

 

الیکشن کمیشن کو سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کی جانب سے تحریک انصاف کے مزید 35 اراکین کے استعفے مزید کارروائی کیلئے موصول ہو گئے ہیں ۔

نجی ٹی وی ایکسپریس نیوز نے الیکشن کمیشن کے ذرائع سے دعویٰ کیاہے کہ الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی اراکین کے موصول ہونے والے استعفوں پر کارروائی شروع کر دی ہے اور ممکنہ طور پر انہیں آج ہی ڈی نوٹیفائی کر دیا جائے گا ۔

 

ایوان میں پی ٹی آئی منحرف اراکین کے علاوہ صرف 30 سے زائد ارکان ہی بچے ہیں ، قومی اسمبلی کا آج ہونے والا اجلاس پی ٹی آئی استعفوں کے باعث ہی ملتوی کیا گیا ۔