کراچی: کراچی کے ضلع کیماڑی میں ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسر (ڈی آر او) کے دفتر کے باہر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے کارکنوں کے درمیان ‘تصادم’ میں سابق وفاقی وزیر علی زیدی سمیت متعدد زخمی.
تفصیلات کے مطابق بلدیاتی انتخابات کے نتائج کے خلاف پی ٹی آئی کارکنان ڈی آر او آفس کیماڑی کے باہر احتجاج کر رہے تھے۔

Several injured in violent clashes between PPP, PTI workers in Karachi

Image Source: Geo

اسی دوران پیپلز پارٹی کے کارکنان نے دفتر میں گھس کر توڑ پھوڑ شروع کردی۔ بعد ازاں انہوں نے پی ٹی آئی کارکنوں پر پتھراؤ کیا جس میں پارٹی سندھ کے صدر علی زیدی سمیت متعدد افراد زخمی ہوگئے۔
سیاسی کارکنوں کے درمیان تصادم کے بارے میں ہنگامی کال کے بعد صورتحال کو کم کرنے کے لیے پولیس جائے وقوعہ پر پہنچ گئی۔
اے آر وائی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے ان پر اور ان کی پارٹی کے کارکنوں پر پتھراؤ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ایم پی اے ایل جی کے انتخابات کے نتائج کے لیے کل سے ڈی آر او افسر کے باہر بیٹھے تھے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ‘عہدیداروں سے بات چیت کے دوران پیپلز پارٹی کے کارکن دفتر میں داخل ہوئے اور پولیس کی موجودگی میں پارٹی کارکنوں پر حملہ کیا۔
تاہم سندھ کے وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے اے آر وائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ شہر کا پرامن ماحول خراب کرنے کی ’سازش‘ ہو رہی ہے۔
شرجیل میمن نے کہا، “تحریک انصاف احتجاج کر کے اور عہدیداروں پر حملے کر کے مطلوبہ نتائج حاصل کرنا چاہتی ہے،” شرجیل میمن نے مزید کہا کہ وہ ایسے ہتھکنڈے استعمال کر کے لوکل گورنمنٹ کے نتائج کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔