پاکستانی معیشت کیلئے پریشان کن خبر ہے کہ ورلڈ بینک نے 1 اعشاریہ ایک بلین ڈالر کے 2 قرضوں کی منظوری کا جو وعدہ موجودہ حکومت سے کیا تھا اس کی ادا ئیگی اگلے مالی سال تک مؤخر کر دی ہے جبکہ درآمدات پر فلڈ لیوی عائد کرنے کی بھی مخالفت کی ہے ۔جو پاکستان اور پاکستانیوں کے لیے تشویش ناک خبر ہے –

 

 

ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق ورلڈ بینک کی جانب سے سکینڈ ریزیلینٹ انسٹی ٹیوشن فار سٹسٹین ایبلیٹی اکنامی کے 450 ملین ڈالر کے قرض اور سستی توانائی کیلئے دوسرے پروگرام کے 600 ملین ڈالر کے قرض کی منظوری مؤخر کرنے کا فیصلہ پاکستانی حکومت کیلئے ایک بھاری جھٹکا ثابت ہو گا۔
اگر ایسا ہوگیا تو پاکستان کی مشکلات میں بے پناہ اضافہ ہو جائے گا -گزشتہ سال اگست میں آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی سے قبل ورلڈ بینک نے 300 ملین ڈالر کے خلاکو پُر کرنے کیلئے اپنی قرض کی رقم کو بڑھانے کی رضا مندی ظاہر کر دی تھی ، لیکن وفاقی حکومت کی جانب سے فیصلہ سازی نہ ہونے پر اب یہ تمام کوششیں ضائع ہوتی ہوئی دکھائی دے رہی ہیں ۔اس فیٍصلے میں تاریخ سے حکومت پر عوام کا اعتماد اور بڑھ جائے گا اور مہنگائی کا ایک اور طوفان عوام کی زندگی اجیرن بنا دے گا