پاستان میں صحافیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کا سلسلہ تھم نہ سکا -آج اس کا نشانہ معروف صحافی بیرسٹر احتشام بن گئے -جنہیں پولیس نے ایس ایس پی آپریشنز علامہ اقبال میں مبینہ طور پر 2 گھنٹے زبردستی روکے رکھا اس کی اطلاع جب دیگر صحافیوں اور وکلاء برادری کو ہوئی تو انھوں نے ایس ایس پی کے دفتر کے باہر احتجاج کا فیصلہ کیا -ان کے اس ردعمل پر پولیس نے اینکر پرسن بیرسٹر احتشام امیر الدین کو مبینہ طور پر دو گھنٹے تک حراست میں رکھنے کے بعد رہا کردیا۔ اینکر پرسن کے مطابق وہ گزشتہ روز کسی مقدمے کے سلسلے میں ایس ایس پی آپریشنز علامہ اقبال ٹاؤن کے دفتر گئے تھے جہاں انہیں حبس بے جا میں رکھا گیا اور اس وقت تک نہیں چھوڑا گیا جب تک صحافیوں اور وکلا نے ایس ایس پی کے دفتر کے باہر احتجاج نہیں کیا۔

لاہور بار ایسوسی ایشن نے احتشام امیرالدین کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جنگل کے قانون کا سہارا لیتے ہوئے ثابت کیا جا رہا ہے کہ پاکستان پولیس سٹیٹ بن گیا ہے۔ لاہور بار نے مطالبہ کیا کہ احتشام امیرالدین کے معاملے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ انکوائری کی جائے اور ایس پی آپریشنز علامہ اقبال ٹاؤن عمارہ شیرازی کو اختیارات سے تجاوز کرنے پر معطل کیا جائے-تاہم ابھی تک یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ وہ کس وجہ سے پولیس سٹیشن گئے تھے یا ان پر کس طرح کا الزام ہے –