پاکستان مسلم لیگ (ن )کی نائب صدر مریم نواز کے حوالے سے بتایا کہ ان کی وطن واپسی 22 جنوری کو ہونے کا امکان ہے، جبکہ پاکستان مسلم لیگ کے قائد نواز شریف نے بیٹی کو پارٹی کی تنظیم سازی کا ٹاسک سونپ دیا ہے، وہ وطن واپس پہنچتے ہی پنجاب کے دورے اور سینئر رہنماؤں سے ملاقاتیں کریں گی۔جبکہ پرویز الہی کے اعتماد کا ووٹ لینے کے بعد حمزہ شہباز نے وطن واپسی کا ارادہ ترک کردیا ہے اور وہ ابھی پاکستان واپس نہیں آرہے

 

اور مسلم لیگ کے شریف خاندان کا یہی رویہ ان کی پارٹی کو نقصان پہنچا رہا ہے کیونکہ ان کی جماعت کے ورکرز ان کے لندن رہنے سے خوش نہیں ہیں اور پی ٹی آئی کے کارکنان اس بات کو خوب اچھالتے ہیں کہ عمران خان گولیاں کھا کر بھی علاج پاکستان میں کرواتا ہے جبکہ شریف خاندان کھانسی اور بخار کے علاج کے لیے بھی باہر بھاگتے ہیں

واضح رہے کہ جنید صفدر پہلے ہی وطن واپس آ چکے ہیں اور ان کے بارے میں مختلف چینلز پر خبریں سامنے آئی تھیں کہ وہ اب عملی طور پر سیاست میں قدم رکھیں گے -مگر جنید صفدر کا میڈیا ٹاک میں کہنا تھا کہ وہ الیکشن نہیں لڑیں گے تاہم الیکشن کمپین میں اپنی والدہ کے ساتھ ساتھ شامل ضرور ہوںگے –