پنجاب میں تحریک اعتماد حاصل کرنے کے بعد تحریک انصاف نے اب قومی اسمبلی پر چڑھائی کا فیصلہ کرلیاہے -حکومت کے 5 سے 8 ارکان قومی اسمبلی نے تحریک ا انصاف کے ساتھ ہاتھ ملانے کا فیصلہ کرلیا ہے اگر ایسا ہوا تو شہباز حکومت کے لیے اعتماد کا ووٹ لینا ناممکن ہوجائے گا دوسری جانب ایم کیو ایم نے بھی حکومت کا ساتھ چھوڑنے کی دھمکی دے دی ہے -وفاقی حکومت گرانے کے لیے
تحریک انصاف نے وزیراعظم شہبازشریف کے خلاف اعتماد کی ووٹ کی کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ پی ڈی ایم حکومت کیلئے پریشان کن بات یہ ہے کہ ایم کیوایم ناراض دکھائی دے رہی ہے اور حکومت کیلئے ان کے سات ووٹ نہایت اہمیت کے حامل ہیں ۔


پی ڈی ایم حکومت کے ساتھ ایم کیوایم کے حلقہ بندیوں پر اختلافات ہیں جس کی حل کی یقین دہانی گزشتہ روز شہبازشریف کی جانب سے بھی کروائی گئی تاہم برف پگھلنے میں ابھی تک ناکام ہے اور متحدہ قومی موومنٹ حکومت سے علیحدگی کی دھمکی بھی دے چکی ہے ۔
ایم کیوایم ذرائع سے دعویٰ کیاہے کہ سب سے پہلے ایم کیو ایم کے وفاقی وزراءکا مستعفی ہونے کا امکان ہے ۔ ذرائع ایم کیوایم کا کہناتھا کہ ان حلقہ بندیوں پر الیکشن لڑنا خود کشی ہو گی ، ہم نہیں تو پھر کوئی نہیں، ایم کیوایم کے پاس ایک نہیں بلکہ کئی آپشنز موجود ہیں، ایم کیوایم تما م آپشنز پر غور کر رہی ہے ، ایم کیو ایم نے اپنے بقا کے لیے فیصلہ کیا ہے کہ تما م جماعتوں سے بات چیت ہو سکتی ہے تو تحریک انصاف سے بھی ہو سکتی ہے ، ہمارے ووٹ کی وجہ سے پیپلز پارٹی کے 10 وفاقی وزیر ہیں۔ایم کیو ایم کو خطرہ ہے کہ کراچی اور حیدر آباد میں تھریک انصاف کے ساتھ مخالفت کرکے ایک ایک سیٹ پر الیکشن جیتنا ان کے لیے مشکل ہوگا تاہم اگر وہ کپتان کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کرلیتے ہیں تو ان کا مستقبل بھی ق لیگ کی طرح روشن ہوسکتا ہے اور ان کو کراچی میں مئیر کی سیٹ بھی مل سکتی ہے -مگر عمران خان ایم کیو ایم کے ساتھ کس طرح اور کن شرائط پر ہاتھ ملائیں گے یہ ابھی دیکھنا ہوگا -لیکن پیپلز پارٹی کو سندھ سے آؤٹ کرنے کےلیے کپتان کو کچھ جماعتوں کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ تو کرنا پڑے گی –