کراچی: جنوری کے پہلے نو دنوں کے دوران کراچی میں ڈکیتی کی وارداتوں میں ایک خاتون سمیت پانچ افراد جان کی بازی ہار گئے۔
تفصیلات کے مطابق کراچی میں اسٹریٹ کرائمز کی وارداتوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے جس کے باعث متعدد افراد اپنی جانوں اور قیمتی سامان سے محروم ہوچکے ہیں۔CCTV: Two motorcyclists snatch mobile phone in Karachi

Image Source: DP

ایک رپورٹ کے مطابق پہلا قتل 2 جنوری کو کراچی کی عوامی کالونی میں ہوا جہاں شاہد نامی شخص کو گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔ 5 جنوری کو ڈکیتی مزاحمت پر ثنا طارق نامی خاتون کو گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔
سچل تھانے کی حدود میں 9 جنوری کو عبدالرزاق جان کی بازی ہار گیا۔ نور رحمان بھی ان پانچ افراد میں شامل تھا جو جان کی بازی ہار گئے۔ انہیں 10 جنوری کو نیو سبزی منڈی کے قریب گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔
گیارہ 11 جنوری کو سرجانی کے یارو گوٹھ میں ایک شہری کو قتل کیا گیا تھا۔
رواں سال کے اوائل میں اسٹریٹ کرائم کا نشانہ بننے والی خاتون نے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی گاڑی کو احتجاجاً روکا۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بندرگاہی شہر کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا اور علاقہ مکینوں سے ملاقات کی اور ان سے بات چیت کی، اسی دوران ایک مقام پر انہوں نے سڑک پر کھیلتے بچوں کے ساتھ کرکٹ بھی کھیلی۔
خاتون وزیراعلیٰ کی گاڑی کے دروازے پر آئی اور انصاف کے حصول کے لیے رونے لگی کیونکہ پولیس اس کے ساتھ فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) درج کرنے میں تعاون نہیں کر رہی ہے۔