سکھر: سکھر کی احتساب عدالت نے منگل کو سندھ گندم کیس میں کرپشن کے الزامات کا سامنا کرنے والے 21 افراد کو بری کردیا۔
نیب ذرائع کے مطابق حکومت نے 2017 میں اپنے سٹاک سے گندم سبسڈی ریٹ پر فلور ملوں کو جاری کی، تاہم گندم کے سٹاک کی قیمت حکومت کو ادا نہیں کی گئی۔

NAB to register corruption reference over illegal allotment of Malir Land

Image Source: DP

محکمہ خوراک گھوٹکی میں گندم کرپشن کیس کی سماعت سکھر میں ہوئی۔ ایڈووکیٹ طاہر حسین نے کہا کہ عدالت نے کیس کے تمام ملزمان کو بری کر دیا ہے۔
بعد ازاں کیس کی سماعت 25 جنوری تک ملتوی کر دی گئی۔
اس سے قبل قومی احتساب بیورو (نیب) سندھ چیپٹر نے گندم اسکینڈل میں 15 ارب روپے سے زائد مالیت کی گندم چوری کی صوبائی محکمہ خوراک کے خلاف کھولی گئی انکوائریوں کے تحت 10 ارب روپے سے زائد کی ریکوری کی تھی۔
نیب کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سکھر میں محکمہ خوراک سندھ کے خلاف 9 انکوائریاں شروع کی گئیں کیونکہ 9 اضلاع میں 15 ارب روپے سے زائد کی گندم چوری کی گئی۔ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ نیب کی تحقیقات کے دوران فلور مل مالکان نے 2.112 ارب روپے کی پلی بارگین کی۔