پاکستان میں خواتین کی جنسی ہراسگی کا سلسلہ بدستور جاری ہے خواتین دفاتر ،تعلیمی ادروں اور گھروں میں بھی محفوظ نہیں ہیں اور بعض خواتین کو لوگ بلیک میل کرکے کئی کئی ماہ یا کئی سال تک اپنی ہوس کا نشانہ بناتے ہیں ایسا ہی ایک واقعہ جتوئی سے رپورٹ ہو ا جہاں ایک کمسن 13سالہ لڑکی کو مبینہ طور پر 8 ماہ تک اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا رہا اور اب یہ خبر میڈیا میں آنے کے بعد اس لڑکی کے ملزم کے خلاف مقدمہ درج کر کے مرکزی ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے ۔

 

 

پولیس کے مطابق ضلع مظفر گڑھ کی تحصیل جتوئی کے علاقے کوٹلہ رحم شاہ میں ایک 13 سالہ لڑکی کو تین افراد نے آٹھ ماہ تک مبینہ طور پر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا اور اس کی غیر شائستہ اور قابل اعتراض تصاویر اور ویڈیوز کو بلیک میل کرنے کے لیے استعمال کیا۔ اس شرمناک واقعے کا گھر والوں کو اس وقت علم ہوا جب وہ حاملہ ہوگئی -لڑکی کے حمل کا پتا چلنے اور اس کے اہل خانہ کے علم میں آنے کے بعد جتوئی پولیس نے اب تینوں ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے

متاثرہ لڑکی نے ایف آئی آر میں موقف اختیار کیا ہے کہ وہ آٹھ ماہ قبل دوپہر کے وقت اپنے گھر کے باہر مال مویشی کے پاس بیٹھی تھی کہ ملزم اعجاز اسے اسلحے کے زور پر کھیت میں لے گیا اور زبردستی ریپ کرنے کے بعد دھمکی دی کہ اگر کسی کو بتایا تو جان سے مار دوں گا۔ اس کے بعد اس کے 2 اور ساتھی عبدالستار اور ممتاز بھی اس گندے کام میں شامل ہوگئے جس پر وہ لڑکی حاملہ ہوگئی جب گھر والوں کو اس واقعےکا علم ہوا تو لڑکی کے گھروالوں نے پولیس کو اطلاع دی جس پر کاروائی کرتے ہوئے پولیس نے تینوں افراد کو گرفتار کرلیا –