پاکستان کے موجودہ آرمی چیف معیشت کی بحالی کے لیے سعودی عرب اور یو اے ای کے دورے پر روانہ ہوگئے ان کا یہ دورہ ایک ہفتے پر محیط ہوگا -فوج کے میڈیا ونگ نے اس خبر کی تصدیق کی کہ آرمی چیف 4 سے 10 جنوری تک سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کا دورہ کر رہے ہیں۔

آئی ایس پی آر کے ایک سرکاری ہینڈ آؤٹ کے مطابق آرمی چیف ّاصم منیر دونوں برادر ممالک کی سینئر قیادت سے ملاقات کریں گے جس میں باہمی دلچسپی کے امور، ملٹری ٹو ملٹری تعاون اور دو طرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا، جس میں سیکیورٹی سے متعلق موضوعات پر توجہ دی جائے گی”۔
آرمی چیف کی حیثیت سے جنرل عاصم کا پہلا دورہ، ایک ایسے اہم موڑ پر آیا ہے جب پاکستان کو ادائیگیوں کے توازن کے ایک اور بحران کے ساتھ ساتھ ڈیفالٹ کا سامنا ہے۔ ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر کم ہو کر 5.8 بلین ڈالر پر آگئے ہیں
پاکستان ڈیفالٹ سے بچنے کے لیے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے ایک اور مالی امدادی پیکج حاصل کرنے کی امید کر رہا ہے۔اگر ایسا نہ ہوسکا تو پاکسان کے ہاس آئی ایم ایف کی شائط ماننے کے علاوہ کوئیآپشن نہیں بچے گا

 

مبصرین کا خیال ہے کہ آرمی چیف کا دورہ ایک اہم اصول کا کردار ادا کرے گا اور اس سے انتہائی ضروری مالی امداد کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے بدھ کو دعویٰ کیا کہ سعودی عرب جلد ہی مالیاتی پیکج میں توسیع کرے گا۔آرمی چیف کی سعودی قیادت سے ملاقات متوقع ہے جس میں مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ جس میں دفاعی تعلقات اور دیگر علاقائی سلامتی کے معاملات شامل ہیں۔ اپنے دورے کے پہلے روز آرمی چیف نے سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان بن عبدالعزیز سے بات چیت کی۔سعودی میڈیا کے مطابق ملاقات کے آغاز پر شہزادہ خالد نے جنرل عاصم کو پاکستان کا نیا چیف آف آرمی سٹاف مقرر ہونے پر مبارکباد دی۔