پاکستان مسلم لیگ ن اور اتحادی جماعتوں کی سرتوڑ کوشش کے با وجود تحریک انصاف اور ق لیگ کا کوئی ووٹ توڑا نہ جاسکا جس پر حکومت نے سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے خلاف عدم اعتمادکی تحریک واپس لنے کا فیصلہ کرلیا دوسری جانب پرویز الہی پرعزم ہیں کہ وہ باآسانی 186 ارکان پور کرکے اپنی عددی اکثریت شو کعدیں گے اگر ایسا ہوجاتا ہے تو پرویز الہی پنجاب اسمبلی توڑ دیں گے جس کے بعد سیاست کارخ ہی تبدیل ہوجائے گا –

 

اخباری ذرائع کے مطابق مسلم لیگ (ن )نے سپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان اور ڈپٹی سپیکر واثق قیوم کے خلاف جمع کرائی گئی تحریک عدم اعتماد واپس لے لی۔ حکومت کے حمایت یافتہ نیوز چینل “جیو نیوز “نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ پنجاب اسمبلی میں نمبر گیم پوری نہ ہونے کی وجہ سے تحریک عدم اعتماد واپس لی گئی ہے جیو پر اس خبر کا چل جانا بہت حیران کن ہے کیونکہ اس خبر سے حکومت بری طرح ایکسپوز ہوگئی ہے ۔

 

 

اس سے پہلے وزیر اعلیٰ چوہدری پرویز الہٰی کے خلاف جمع کرائی گئی تحریک عدم اعتماد بھی اسی لیے واپس لے لی گئی تھی کہ حکومت کے پاس ممبران پورے نہیں تھے اور کپتان اور پرویز الہی کے ساتھ لوگ ان کو چھوڑنے پر آمادہ نہیں تھے۔ پنجاب اسمبلی کا اجلاس 9 جنوری کو طلب کیا گیا ہے جس میں پرویز الہی اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کریں گے ۔