سردیوں میں بارشوں کی کمی نے شہباز حکومت کو نئے امتحان میں ڈال دیا ہے جس کے سبب حکومت دکانوں اور بازارں کو 8 بجے بند کرنے پر مجبورہوگئی -آج وزیر دفاع خواجہ آصف نے وفاقی وزیر توانائی خرم دستگیر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ بجلی کی بچت کیلئے ہم نے کابینہ اجلاس میں فیصلہ کیا ہے کہ ملک بھر کی مارکیٹس رات ساڑھے 8بجے بند کی جائیں گی ،جبکہ شادی ہالز رات 10بجے بند کیے جائیں گے ، شادی ہالز اور مارکیٹس اس ٹائم فریم پر چلیں تو اس سے 62ارب روپے کی بچت آئے گی ۔

 

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ 3 ارب ڈالرز کا سالانہ پیٹرول ہم موٹر بائیکس میں استعمال کر رہے ہیں، اس لیے موٹر سائیکلوں کو الیکٹرک طرز پر منتقل کر رہے ہیں ، جس کیلئے شہریوں کو مالی معاونت بھی فراہم کی جائیگی ، یکم فروری سے فلیمنٹ والے بلب کی پروڈکشن بند کر رہے ہیں ، جبکہ یکم جولائی سے بجلی والے پنکھوں کی پروڈکشن بھی بند کر دی

 

جائے گی۔لیکن وزیروں نے یہ نہیں بتایا کہ بجلی بند ہونے کی صورت میں بائکس وقت پر چارج نہ ہوسکیں تو پھر لوگ دفاتر اور کاروبار پر جانے کےلیے کیا کریں گے یہ فیصلہ حکومت کےلیے نیا درد سر بن سکتا ہے -بجلی کے پنکھوں کی جگہ کون سے پنکھے مارکیٹ میں دستیاب ہوںگےاور ان کی قیمت کیا ہوگی –