ہائی کورٹ کے سنگل بنچ نے الیکشن کمیشن کو 31 دسمبر کو اسلام اباد میں بلدیاتی الیکشن کرانے کا حکم دیا تھا جس پر علم درآمد نہ ہوسکا اور الیکشن کمیشن اور حکومت نے ایک بار پھر عدالت سے رجوع کیا -ہائی کورٹ میں وفاقی دارالحکومت میں سنگل بنچ کے فیصلے کیخلاف اپیلوں پر سماعت ہوئی،چیف جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں 2 رکنی بنچ نے سماعت کی،وکیل میاں عبدالرﺅف نے دلائل دیتے ہوئے کہاکہ عدالت کے فیصلے کو سنگل بنچ نے مدنظر نہیں رکھا،عدالت نے کہاکہ جب الیکشن کمیشن کو یہ معاملے بھیجا گیا تو کیا ہوا؟وکیل درخواست گزار نے کہاکہ 27 دسمبر کو الیکشن کمیشن نے 31 دسمبر کے الیکشن ملتوی کرنے کا حکم دیا،28 دسمبر کے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو چیلنج نہیں کیاگیا،28 دسمبر کا الیکشن کمیشن کا فیصلہ حتمی ہے ۔

 

28 دسمبر کو الیکشن کمیشن نے فیصلہ کیا ہم انتخابات ملتوی کر چکے ہیں ، وکیل نے کہاکہ الیکشن کمیشن نے اپنے آرڈر میں جو وجوہات بتائیں وہ سنگل بنچ نے دیکھا ہی نہیں ۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہاکہ کچھ حقائق ہیں جن کو سنگل بنچ نے مدنظر نہیں رکھا، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا الیکشن کمیشن کو ہدایت دے سکتے ہیں؟عدالت صرف الیکشن کمیشن کا فیصلہ کالعدم قرا دے دیتی تو کیا ہوتا؟ڈی جی لا الیکشن کمیشن نے کہاکہ الیکشن کمیشن آزادانہ اپنا فیصلہ کر سکتا ہے،چیف جسٹس ہائیکورٹ نے کہاکہ ابھی انتخابات کی تاریخ گزر گئی تو کیا آپ نے اب صرف پولنگ ڈے کا اعلان کرنا ہے ، جس طرح بتایا گیا صدر نے بغیر دستخط وہ بل واپس بھیج دیا پھر تو قانون یہی رہے گا؟

چیف جسٹس نے کہاکہ کسی بھی وجہ سے الیکشن ملتوی ہو جائیں تو دوبارہ کرانے کا کیا طریقہ ہوتا ہے؟ڈی جی لا الیکشن کمیشن نے کہاکہ اس صورت میں پولنگ کی نئی تاریخ کا اعلان کیا جاتا ہے – ، چیف جسٹس نے استفسار کیا یونین کونسل کی تعداد میں اضافہ کی صورت میں کتنے دن چاہئیں ؟ڈی جی الیکشن کمیشن نے کہاکہ پھر ہم 120 دنوں میں الیکشن کرا سکتے ہیں ۔ عدالت نے بلدیاتی انتخابات سے متعلق سنگل بنچ کے فیصلے کیخلاف اپیلوں پر محفوظ فیصلہ سنا دیا،عدالت نے الیکشن کمیشن کی انٹراکورٹ اپیل قابل سماعت قراردیدیا، عدالت نے الیکشن کمیشن اور وفاق کی اپیلوں پر فریقین کو 9 جنوری کیلئے نوٹس جاری کردیا۔اب جنوری میں تو اسلام اباد میں بلدیاتی الیکشن ہوتے نظر نہیں آتے کیونکہ وفاقی ھکومت کسی طور بھی کسی قسم کے لیکشن کرانے کا رسک لینا نہیں چاہتی –