پاکستان کا زرمبادلہ تاریخ میں پہلی بار 6ارب ڈالر سے کم رہ گیا ہے -اور اگلے ماہ آئی ایم ایف کی ایک ارب ڈالر کی قسط بھی ادا کرنی ہے جس کے بعد ڈیفالٹ کے چانسز اور زیادہ بڑھ جائیں گے -ملک بھر میں بجلی اور گیس کی قلت کی وجہ سے ٹیکسٹائل ملز کی بندش کے بعد اب مرغیوں کی فیڈ تیار کرنے والے فیکٹریاں بھی بند ہونا شروع ہو گئی ہیں لیکن اس کی وجہ بجلی گیس نہیں بلکہ سویابین ہے جس کے کنٹینرز پورٹ پر پھنسے ہیں۔

 

 

 

 

پاکستان نے اگر ڈیفالٹ سے بچنا ہے تو آئی آیم ایف کی تمام شرائط ماننا پڑیں گی مگر اس سے سارا بوجھ عوام پر آئے گا یہ نہ ہو کہ عوام کا ردعمل آجائے اور وہ سڑکوں پر نکلا آئیں اگر ایسا ہوگیارتو سری لنکا سے زیادہ برے حالات ہوجائیں گے کیونکہ پاکستان سری لنکا سے کہیں زیادہ بڑ املک ہے �اور یہاں کے لوگ 9 ماہ سے جہنم جیسے ماحول میں سانس لے رہے ہیں –