کوئٹہ: بلوچستان حکومت نے جمعرات کو گوادر میں احتجاج کے دوران ایک پولیس اہلکار کی شہادت کے بعد ایک ماہ کے لیے دفعہ 144 نافذ کر دی۔
دفعہ 144 کے تحت جلسے، دھرنے اور پانچ سے زائد افراد کے کسی بھی عوامی اجتماع پر پابندی عائد کی گئی ہے جبکہ حکام نے اسلحے کی نمائش پر بھی پابندی عائد کر دی ہے۔

حق دو تحریک کے احتجاج کے درمیان ایک پولیس کانسٹیبل کی ہلاکت کے بعد بندرگاہی شہر میں سخت اقدامات اٹھائے گئے۔
قبل ازیں وزیر داخلہ بلوچستان نے اہلکاروں کو کانسٹیبل کی شہادت پر مشتبہ افراد کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے ایسے واقعات کو ناقابل برداشت قرار دیا اور مظاہرین پر زور دیا کہ وہ جمہوری عمل کا انتخاب کریں۔