چند روز قبل گورنر نے وزیراعلیٰ پرویز الہی کو برطرف کردیا تھا جس پر عدالت نے ایکشن لیا اور وزیراعلیٰ کو ان کے عہدےپر دوبارہ بحال کردیا گیا -اس فیصلے سے قبل اس بارے مختلف چینلز پر سینئر وکلا گفتگو بھی کرتے رہے اور کہتے رہے کہ ایسا فیصلہ عدالت الٹا کر رکھ دے گی ،گر گورنر نے قانون دان کی نہ سنی اور �آدھی رات کو آرڈر جاری کردیا- عدالتی فیصلے سے حکومت کی ساکھ بری چرح متاثر ہوئی جس پر تحریک ا نصاف کو بولنے اور تنقید کرنے کا موقع مل گیا اور اب بتایا جارہا ہے کہ مسلم لیگ کے بعض رہنما بھی اس فیصلے سے ناخوش ہیں –

 

 

اہم لیگی رہنماؤں نے قیادت کو کہا ہے کہ گورنر پنجاب بلیغ الرحمان کی جانب سے کمزور قانونی نکات پر چودھری پرویز الٰہی کو ڈی نوٹیفائی کیے جانے سے عوامی سطح پر سبکی کا سامنا کرناپڑا ہے ، انھوں نے اس بات کی بھی وضاحت مانگی کہ اجلت میں ڈی نوٹیفائی کرنے اور ناقص حکمت عملی اپنانے پر ذمہ داران کی نشاندہی کی جائے ، اگر پرویز الٰہی اعتماد کا ووٹ لینے میں کامیاب ہو گئے تو مسلم لیگ (ن)کے پاس کوئی پلان بی نہیں ہے ۔انھوں نے اس خدشے کا اظہار بھی کیا کہ اگر پرویز الہی نے اعتماد کا ووٹ لے لیا جس کا بہت حد تک چانس ہے تو پھر وہ اسمبلی توڑ دیں گے

 

 

جس سے پی ڈی ایم کو اور شسکست کا جھٹکا لگے گا اور عمران خان کو الیکشن میں اور کامیابیاں مل جائیں گی کیونکہ ان کے بیانیے کی جیت ہوجائے گی – اہم اور سینئر مسلم لیگی رہنماؤں نے اعلٰی قیادت کو ایک خط بھی تحریر کیا جس مین شکایت کی گئی کہ بغیر منصوبہ بندی وزیر اعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد واپس لی گئی ، اس سے ن لیگ کا موقف سیاسی و قانوی بنیادوں پر مزید کمزور ہوا ہے -اب خدشہ یہ ہے کہ یہ ممبران کہیں عام انتخابات میں آزاد حیثیت میں الیکشن لڑنے کا اعلان نہ کردیں -اس سے مسلم لیگ کی پوزیشن اور کمزور ہوسکتی ہے –