پاکستان میں اس وقت سخت سردی پڑ رہی ہے مگر سیاسی درجہ حرارت بہت بلند ہے -تحریک انصاف اور وفاقی حکومت میں گھمسان کا رن جاری ہے اور دونوں پارٹیاں ایک دوسرے کو گرانے کے لیے ایڑی چوٹی کازور لگا رہی ہیں -اس پر اب سپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان کا موقف سامنے آگیا ہے -سپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان کا کہنا ہے کہ ہم فوری طور پر اسمبلی توڑنا چاہتے ہیں لیکن تحریک عدم اعتماد کا معاملہ آ گیا جس کی وجہ سے معاملہ تاخیر کا شکار ہوا، کل اسمبلی نہیں ٹوٹ سکتی، معاملہ شاید جنوری تک چلا جائے ، ابھی تحریک عدم اعتماد پیش ہوئی ہے، اس پر کارروائی کرنے میں اتنا وقت لگے گا تو اسمبلی کل کیسے ٹوٹ سکتی ہے۔

 

 

انہوں نے کہا کہ ابھی تحریک عدم اعتماد پر نوٹس ہونا اور اسے ارسال کرنا ہے، اس میں وقفہ بھی ہوتا ہے، ایم پی ایز کو بلایا جاتا ہے، بہت جلدی بھی ہوئی تو شاید جنوری کے پہلے ہفتے میں جا کر اس پر ووٹنگ وغیرہ کا مرحلہ مکمل ہوگا۔ سپیکر کا کہنا تھا کہ ان کے اور ڈپٹی سپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر قانون کے مطابق کارروائی ہوگی ، وہ وزیراعلی اور ڈپٹی سپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کارروائی کے اجلاس کی صدارت کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ گورنر عدم اعتماد کیلئے اجلاس بلاسکتے ہیں لیکن وزیراعلیٰ کو ڈی نوٹیفائی نہیں کر سکتے -اگر ایسا ہوا تو تحریک انصاف عدالت جائے گی –