چوہدری شجاعت جن کو ان کی جماعت کے اپنے ایم پی ایز نے مسترد کرکے پرویز الہی کا ساتھ دینے کا فیصلہ تھا ایک بار پھر سرگرم ہوگئے ہیں اور ان 6 ارکان کو ساتھ ملانے کی کوشش کررہے ہیں جنھوں نے 22 جولائی کے بعد ان کا ساتھ چھوڑ دیا تھا –

 

قائد مسلم لیگ ق چوہدری شجاعت نے وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی کا ساتھ دینے والے پارٹی ارکان پنجاب اسمبلی سے رابطے تیز کرلیے، پنجاب حکومت میں ق لیگ کے 10 ایم پی ایز میں سے 6 کے ساتھ رابطے تیز کیے ہیں۔مگر ابھی تک اس میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی کیونکہ ق لیگ کے ممبران پاکستانی عوام کا موڈ پڑھ چکے ہیں اور انہیں پتہ ہے کہ پی ڈی ایم کے ساتھ مل کر الیکشن لڑا تو وہی حشر ہوگا جو علیم خان اور جہانگیرترین گروپ کا ہوا تھا –

 

اور اسٹیبلشمنٹ پہلے ہی کہہ چکی ہے کہ وہ اب سیاست میں مداخلت نہیں کرے گی اس لیے پرویز الہی کے بندے توڑنا آسان کام نہیں ہوگا – تاہم سیاست میں کسی بھی وقت کوئی کرشمہ ہوسکتا ہے – پنجاب اسمبلی میں متحدہ اپوزیشن کے 180 ووٹ ہیں، پرویزالٰہی کے ساتھی 6 ارکان صوبائی اسمبلی کے شامل ہونے سے متحدہ اپوزیشن کے 186 ارکان ہوسکتے ہیں۔اگر ایسا ہوجاتا ہے تو ن لیگ ایک بار پھر حکومت بنانے کی پوزیشن میں آجائے گی مگر ابھی یہ کام ناممکن لگتا ہے –