پنجاب میں سیاسی صورتحال خراب ہونے لگی -پی ٹی آئی اور وفاقی حکومت تحریک عدم اعتماد کے معاملے پر آمنے سامنے آگئے- اس حوالے سے وزیرداخلہ کے بیان نے مزید صورتحال کشیدہ کردیے -لاہور میں وزیراعلیٰ ہاؤص کے سامنے کنٹینر بھی پہنچ گئے اب دیکھتے ہیں کہ 4 بجے کیا فیصلہ ہوتا ہے – کیونکہ رانا ثنااللہ نے کہہ دیا ہے کہ اگر اج پرویز الہی نے اعتمادکا ووٹ نہ لیا تو وزیراعلیٰ پرویز الہی کو ان کے عہدے سے معزول کردیں گے یا گورنر راج لگا دیں گے –

 

پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما خلیل طاہر سندھو نے کہا ہے کہ اگر اعتماد کے ووٹ کیلیے پنجاب اسمبلی کا اجلاس آج نہ ہوا تو گورنر وزیراعلیٰ پرویز الہیٰ کو ڈی نوٹیفائی کردیں گے۔گورنر پنجاب کی جانب سے وزیراعلی کو اعتماد کا ووٹ لینے کی ہدایت کے معاملے پر پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن اتحاد نے حکمت عملی کو فائنل کر لیا۔

 

خلیل سندھو نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم گورنر کے طلب کردہ اجلاس میں شرکت کے لئے مقررہ وقت پر پنجاب اسمبلی پہنچیں گے، گورنر کا طلب کردہ اجلاس آئین و قانون کے عین مطابق ہے اور وزیراعلیٰ کو کل ہر حال میں اعتماد کا ووٹ لینا ہی ہوگا ورنہ وہ اپنے عہدے پر برقرار نہیں رہ سکتے۔ انھوں نے اپوزیشن کے تمام ممبران سے پنجاب اسمبلی پہنچنے کی ہدایت جاری کردی -دوسری جانب سپیکر پنجاب اسمبلی نے گورنر کی سمری غیر قانونی قرار دے کر مسترد کردی اور اکیس دسمبر کو اجلاس نہ ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کارروائی جمعہ کے روز تک ملتوی کردی ہے۔