آپ عمران خان کے حمائیتی ہوں یا مخالف ایک بات تو ماننا پڑے گی کہ جن حالات میں عمران خان نے معیشت سنبھالی کرونا کے مشکل حالت میں غریبوں کو بچایا غریبوں کی دعاؤں سے اللہ نے اس کی بھرپور مدد کی پھر اس نے غریب اور بے سہارا خواتین کو 12 ہزار روپے دئے اور صحت کارڈ کا تحفہ قوم کو دیا اللہ نے اس کو عزت دی اور عمران ایک اسلامی لیڈر کے طور پر دنیا میں مقبول ہوگیا – اس کے ساتھ ساتھ خان نے سابق وزیرخزانہ شوکت ترین کے ہاتھ اسٹیبشمنٹ کو پیغام پہنچایا تھا کہ یہ معیشت نہیں سنبھال سکیں گے اور اس بات کا اعلان خان نے اپریل میں ہی جلسے میں کردیا تھا جو 100 فیصد درست ثابت ہوا – -مگر پھر خان کی حکومت کو ختم کردیا گیا -مگر یہ پہلی بار ہوا کہ کسی لیڈر کی حکومت ختم ہونے پر عوام سڑکوں پر نکلی مگر اس بار مٹھائیاں لے کر نہیں بلکہ خان کو واپس لاؤ کے نعرے کے ساتھ- اس کا آغاز کراچی سے ہوا کیونکہ کراچی والے مذید بوری بند لاشیں دیکھنا نہیں چاہتے تھے ، کے پی کے والے طالبان کودوبارہ سر اٹھاتا دیکھنے کے موڈ میں ہرگز نہیں تھے اور پنڈی اور لاہور کی عوام بھی خان کی طرز حکومت سے مطمئن تھیں اس لیے وہاں بھی لوگ سڑکوں پر اگئے -شہر کی یہ لہر دیہاتوں مین بھی پہنچی تو کسان بھی خان کے ساتھ کھڑے ہوگئے –

 

مگر اصل امتحان عوام کا شروع ہوگیا نئی آنے والی حکومت کی ساری توجہ صدر مملکت کو ہٹانے اور پی ٹی آئی کے ممبران توڑنے پر مرکوز ہوئی تو خان کو عوام میں شور مچانے کا اور موقع ہاتھ لگ گیا -پی ڈی ایم لوٹے اکٹھے کرتی رہی اور عمران قوم کو ساتھ ملا تا رہا اور یوں اس نے 7 ماہ میں ا پنی ایسی جمہوری فوج تیار کرلی جسے سیاسی میدان میں شکست دینا ناممکن ہوگیا -دوسری جانب معیشت بہتر کرنے کی دعویدار حکومت نہ مہنگائی پرقابو پاسکی نہ ڈالر نیچے لاسکی نہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو رام کرسکی بلکہ ان سے ووٹ کا حق چھیننے کا بل منظور کرواکے انھوں نے اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار لی انھوں نے پاکستان رقوم بھیجنے سے صاف انکار کردیا اور اب ملک کے یہ حالات ہیں کہ ملکی اثاثے 2014 کے بعد پہلی بار 6ارب ڈالر سے بھی کم رہ گئے ہیں

 

سونا تاریخ کی بلند ترین سطح پرہے پٹرول کےذخائر کم ہورہے ہیں اور سوشل میڈیا پر شور مچنا شروع ہوگیا ہے کہ آنے والے دنوں میں پاکستان ڈیفالٹ ہوسکتا ہے – خدا نہ کرے ایسا ہو اگر ایسا ہوگیا تو پھر خان کے وہ خدشات بھی سچ ثابت ہوجائیں گے جن کا اظہار وہ کئی بار اپنے جلسوں میں کرچکے ہیں کہ پھر پاکستان کو کن کن باتوں پر کمپرومائز کرنا پڑے گاخدا ہمیں وہ دن کبھی نہ دکھائے –