آج تحریک انصاف کے لیے خوشخبریوں کا دن تھا پہلے ان کے سی سی پی او غلام محمود ڈوگر کو سپریم کورٹ نے بحال کیا اور اب وفاقی ھکومت نےوزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہی کے خلاف فوری طور پر تحریکا عدم اعتماد لانے کا ارادہ ترک کردیا
پاکستان مسلم لیگ (ن) نے فوری طور پر وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی کے خلاف تحریک عدم اعتماد نہ لانے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت پارٹی رہنماؤں کاہنگامی اجلاس ہوا جس میں رانا ثنااللہ، اعظم نذیر تارڑ، خواجہ سعد رفیق ، حمزہ شہباز، سینئر رہنما، وزیراعظم کےمعاونین خصوصی اور اراکین پنجاب اسمبلی شریک ہوئے۔ اجلاس میں معاملے پرمشاورت ہوئی اور فیصلہ کیا گیا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے خلاف ابھی وقتی طور پرعدم اعتماد کی تحریک بھی نہیں پیش کی جائےگی، وزیراعلیٰ پنجاب کو اعتماد کا ووٹ لینےکیلئے گورنرپنجاب کی طرف سے ابھی سمری نہیں بھجوائی جائےگی۔تاہم اس پر کام جاری رہے گا -دوسری جانب پرویز الہی نے کل ہی دعویٰ کردیا تھا کہ عدم اعتماد لانا حکومت کے بس کی بات نہین اور وہ کسی طور بھی 186 ارکان پورے نہیں کرسکتے اور آج ان کی بات کی تائید ہوگئی جب حکومت بیک فٹ پر چلی گئی اب پرویز الہی اور خان کسی بھی وقت پنجاب اور کے پی اسمبلیاں توڑنے کا اعلان کردیں گے جس کے بعد حکومت کے پاس عام انتخابات مین جانے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچے گا کیونکہ اگر وہ صرف ان اسمبلیوں میں انتخاب کرواتے ہین اور ہار جاتے ہین تو 5 سال تک پنجاب اور کے پی ان کے ہاتھ سے نکل جائے گا اور عام انتخابات میں بھی تحریک انصاف آسانی سے میدان مار ل؛ے گی –