لاہور ہائی کورٹ میں ایک منفرد کیس دیکھنے کو ملا جب ایک والد نے اپنی بیٹی کو جہیز کی رقم نہ دینے کے لیے عدالت سے رجوع کرلیا مگر اس کو لینے کے دینے پڑگئے درخواست گزار کی سابقہ اہلیہ اور بیٹی نے شادی کے لیے 3 لاکھ کا دعویٰ کیا تھا، جس پر فیملی کورٹ نے تین لاکھ روپے دینے کا حکم دیا لیکن شہری ریاض کی اپیل پر سیشن عدالت نے رقم کم کرکے ایک لاکھ کر دی تھی۔صوبائی دارالحکومت کی ضلعی عدالت نے فیصلہ جاری کیا ہے کہ بیٹی کی شادی کا خرچ اٹھانا والدکی ذمہ داری ہے اور ماں پر یہ خرچ ڈالنا قانون کے اصولوں کے خلاف ہے۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس چودھری اقبال نے کہا کہ بیٹی کی شادی تک والد اس کا سرپرست ہوتا ہے، ان کا کہنا تھا کہ ماں کیسے بیٹی کی شادی کا بوجھ اٹھا سکتی ہے –

 

بیٹی کی شادی کا خرچ ماں پرکیسے منتقل ہوسکتا ہے، عدالت نے اس کیس میں عدالت جانے والے والد پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ بیٹی کوپیسے دینے کے بجائے ریاض کا عدالت سے رجوع کرنا اس کی سنگدلی ظاہر کرتا ہے، عدالت نے اپنے ریمارکس میں یہ بھی کہا کہ ریاض اپنی دوسری بیوی کی 5 بیٹیوں کے تمام اخراجات اٹھارہا ہے، اس لیے ریاض کا اس بیٹی کو پیسے دینے سے انکار لڑکیوں میں تفریق کے مترادف ہے، عدالت کی نظر میں شہری ریاض اس بیٹی کو سابقہ اہلیہ کے ساتھ رہنےکی سزا دے رہا ہے۔تاہم عدالت کے اس احسن فیصلے سے یہ ذمہ داری اب والد پر جائے گی اور والدہ کو اس فیصلے سے بڑا ریلیف ملے گا –