پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شبلی فراز نے انئے آرمی چیف کی تعیناتت کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ان کی پارٹی پاکستان کے نئے آرمی چیف کی تقرری میں کوئی رکاوٹ پیدا نہیں کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ میرے خیال میں تقرری کا عمل آئین اور قوانین کے مطابق ہونا چاہیے۔پی ٹی آئی رہنما نے ان اطلاعات پر بھی تبصرہ کیا کہ صدر عارف علوی نئے چیف آف آرمی سٹاف کی تقرری کے حوالے سے سمری پر عمران خان سے بات کریں گے۔

 

شبلی فراز نے وزیر اعظم شہباز شریف کی لندن میں مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف سے حالیہ ملاقاتوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، “اگر وزیر اعظم کسی مطلوب شخص سے مشاورت کر سکتے ہیں تو صدر کو عمران خان سے اس پر بات کرنے کا حق ہے۔”انہوں نے زور دے کر کہا کہ صدر کو آرمی چیف کی تقرری پر پی ٹی آئی کے سربراہ سے مشاورت کرنی چاہیے۔شبلی فراز کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے سمری منظوری کے لیے صدر مملکت کو بھی بھیج دی گئی ہے۔سمری بھیجے جانے کے فوراً بعد صدر علوی عمران خان سے ملاقات کے لیے لاہور گئے اور توقع ہے کہ وہ فوج میں اعلیٰ ترین تقرریوں پر بات کریں گے۔وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ نئے آرمی چیف کی تقرری صدر عارف علوی اور پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کے لیے ایک ٹیسٹ کیس ہے۔اب ہوری قوم کی نظریں صدر پاکستان پر لگ گئی ہیں کیونکہ عمران خان کس وقت کیا کرڈالیں کوئی بھی جج نہیں کرسکتا –