کل فوج کی جانب سے وزارت دفاع کو 6 نام بھیجے گئے تھے جس میں سب سے پہلا نمبر عاصم منیر کا تھا اور نواز شریف کی رائے یہی تھی کہ سنیارٹی لسٹ کے اعتبار سے عاصم منیرکو ہی آرمی چیف منتخب کیا جانا چاہیے مگر عاصم منیر کے عمران خان کے ساتھ تعلقات خوشگوار نہیں ہیں اس لیے یہ معاملہ گھمبیر صورتحال اختیار کرسکتا ہے –
وزیراعظم شہبازشریف نے جنرل عاصم منیر کو آرمی چیف اور جنرل ساحر شمشاد کو جوائنٹ چیفس آف سٹاف تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔

 

 

وزیراعظم نے نواز شریف کے مشورے کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر کو آرمی چیف تعینات کردیا ہے -ے جنرل عاصم منیر کو پاک فوج کا سپہ سالار مقرر کرنے کی سمری صدر عارف علوی کو بھجوا دی ہے جن کی منظوری کے بعد انہیں تعینات کر دیا جائے گا۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ جنرل عاصم منیر 6 ناموں کی فہرست میں سینیارٹی میں سب سے سینئر ہیں۔

 

 

 

وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے ٹویٹر پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ “وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے آئینی اختیار استعمال کرتے ہوئے لیفٹنٹ جنرل ساحر شمشاد مرزا کو چئیرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف اور لیفٹنٹ جنرل سید عاصم منیر کو چیف آف دی آرمی سٹاف مقرر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس بابت سمری صدر پاکستان کو ارسال کر دی گئی ہے۔آج 24نومبر ہے اگر تو آصف علوی اس سمری پر دستخط کردیتے ہیں تو تو یہ مسئلہ آج ہی حل ہوجاتا ہے مگر اگر یہ سمری 2 دن روک لی جاتی ہے تو پھر نیا مسئلہ جنم لے گا کیونکہ عاصم منیر 27 نومبر کو ریٹائیر ہورہے ہیں -بتایا گیا ہے کہ اس فیصلے کے بعد صدرمملکت عمران خان سے ملاقات اور مشورے کے لیے زمان پارک پہنچ رہے ہیں –