سکیورٹی ادارے کے سربراہ کی موجودگی میں وزیراعظم کی وزیر دفاع سے انتہائی اہم ملاقات ہوئی جس کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ اس میں نئے آرمی چیف کی تعیناتی کے بارے میں اہم پیش رفت ہوئی ہے – اس ملاقات میں وزیراعظم کے معاون خصوصی ملک احمد خان اوروزیر خزانہ اسحاق ڈار بھی موجود تھے -اس اہم ملاقات میں آرمی چیف کی تقرری اور اہم تعیناتیوں سے متعلق امور زیرغور آئے جس کے بعد آئندہ 24 گھنٹے میں اہم تعیناتی پر پیشرفت متوقع ہے۔

تاہم ابھی تک حتمی طور سے کچھ نہیں کہا جستا کینکہ بظاہر آرمی چیف کی تویناتی پر آرمی چیف اور وزیراعظم میں ڈیڈ لاک برقرار ہے – شہباز شریف عاصم منیر کو چیف آف آرمی سٹاف بنانا چاہتے ہیں جبکہ قمر جاوید باجوہ مبینہ طور پر اظہر عباس کو اس عہدے پر لانا چاہتے ہیں – کل یہ خبر گرم تھی کہسپہ سالار کی تعیناتی کا عمل منگل یا بدھ تک مکمل ہو جائے گا،آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ 29 نومبر کو ریٹائر ہونے جارہے ہیں اور اس دوران وہ اپنی الوداعی ملاقاتیں بھی کر رہے ہیں ۔

 

 

وزیراعظم شہبازشریف ایک نام کا اتنخاب کرنے کے بعد منظوری دیں گے، آرمی چیف کے ساتھ ہی جوائنٹ چیفس آف سٹاف کی تعیناتی بھی کی جائے گی ۔تاہم آج ایک بار پھر اس میں تاخیر ہوتی دکھائی دے رہی ہے جو ملک کے لیے بے حد خطرناک ثابت ہوسکتی ہے –