پاکستان کے مایہ ناز فاسٹ باؤلر اور تیسٹ میں ڈبل سنچری بنانے والے وسیم اکرم جو بہت عرصہ تک دنیا کے نمبر 1 آل راؤنڈر بھی رہے پاکستانی فینز سے بہت نالاں ہیں ان کا کہن اتھا کہ اج بھی دنیابھر میں مجھے عظیم ترین کھلاڑی کی حیثیت سے یاد کیا جاتا ہے مگر جب بات پاکستانیوں کی آتی ہے تو یہاں مجھے ایک فکسر اور جواری کا لقب دیا جاتاہے جو اس ملک کے ہیرو کے لیے بہت تکلیف کا باعث ہوتا ہے وسیم اکرم پاکستان کے واحد کھلاڑی ہیں جنہیں ورلڈکپ 92 کے فائنل میچ میں مین آف دی میچ کا اعزاز بھی ملاتھا –

 

 

وسیم اکرم نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ ‘آسٹریلیا، انگلینڈ، ویسٹ انڈیز اور بھارت میں میرا نام ورلڈ الیون میں اب تک کے عظیم ترین گیند بازوں میں شمار کیا جاتا ہے لیکن پاکستان میں سوشل میڈیا کی یہ نسل مجھے میچ فکسر کہتی ہے’۔سابق کرکٹر نے کہا ‘سوشل میڈیا پر لوگ اب بھی کمنٹس کرتے ہیں اور کہتے ہیں اوہ یہ تو میچ فکسر ہے، مجھے نہیں معلوم ایسا کیوں کیا جاتا ہے؟، مگر غالاب اس کی سب سے بڑی وجہ اپنی کپتانی کے دوران آسڑیلیا کے خلاف ورلڈ کپ میچ مین ان کا شرکت نہ کرنا تھا جس کی وجہ سے سارے ٹورنامنٹ میں ان بیٹن آے والی پاکستانی ٹیم فائنل میں بدترین شکست سے دوچار ہو گئی تھی -اس پر پورے پاکستان میں شور مچا کہ وسیم اکرم نے فائنل میچ نہ کھیلنے کے لیے کروڑوں روپے وصول کیے ہیں -اور اسی وجہ سے 23 سال گزرنے کے بعد بھی انہیں 99 کے ورلڈ کپ کا فائنل نہ کھیلنے کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنا یا جاتا ہے –