حکومت پی ٹی آئی کے لانگ مارچ سے خوفزدہ دکھائی دینے لگی اسی لیے آج ایک بار پھر پی ڈی ایم کی جانب سے خان کا مارچ رکوانے کے لیے سپریم کورٹ میں ایک درخواست جمع کروائی گئی جس میں کہا گیا کہ لانگ مارچ سے اسلام اباد میں شرپھیلنے کا خدشہ ہے تاہم عدالت نے حکومت کی یہ استدعا نامنظور کردی –
سپریم کورٹ میں تحریک انصاف کے لانگ مارچ کیخلاف درخواست پرمختصر وقفے کے بعد دوبارہ سماعت ہوئی -کیس کی سماعت کے دوران جسٹس عائشہ ملک نے درخواست گزار سے استفسار کرتے ہوئے کہاکہ آئے روز اسلام آباد میں پارلیمنٹ سمیت کئی جگہوں پر احتجاج ہوتے ہیں ، کیا کبھی باقی احتجاجوں کے خلاف آپ عدالتوں میں گئے ہیں؟ تو پھر پی ٹی آئی کے لانگ مارچ میں ہی عدالت کی مداخلت کیوں درکار ہے؟
چیف جسٹس عمر عطا ءبندیال کی سربراہی میں بنچ میں سماعت کی،عدالت نے استفسار کیا کہ کیا عمران خان کے لانگ مارچ کیلئے جگہ کا تعین کیاگیا ہے؟انتظامیہ سے پوچھ کر عدالت کو آگاہ کیا جائے، سپریم کورٹ نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو حکم دیا کہ بتایا جائے کہ پی ٹی آئی اپنا اھججاج کس علاقے میں ریکارڈ کرواسکتی ہے -اس کے لیے عدالت نے حکومت کو آدھے گھنٹے میں بتانے کا حکم دیدیا۔جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ کیا انتظامیہ اتنی کمزور ہو گئی ہے کہ لانگ مارچ کنٹرول نہیں کر سکتی؟یہ ایگزیکٹو کا معاملہ ہے ان سے ہی رجوع کریں ، غیرمعمولی حالات میں ہی عدلیہ مداخلت کر سکتی ہے، انتظامیہ کے پاس صورتحال کنٹرول کرنے کے وسیع اختیارات تمام تر ذراعئع بھی ہیں ،پھر عدالت مداخلت کیوں کرے؟

چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ احتجاج کا حق لامحدود نہیں، آئینی حدود سے مشروط ہے،کیا آپ نے پنجاب حکومت سے رابطہ کیا ہے؟ صوبے اور وفاق کا رابطہ منقطع ہو جائے تو کیا عدالت مداخلت کرسکتی ہے؟جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہاگر کوئی فرد یا جماعت کوئی خلاف ورزی کرتا ہے تو ایگزیکٹو کے پاس وسیع اختیارات موجود ہیں ،چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ آپ کے مطابق تو ایگزیکٹو کے اختیارات تو 27کلومیٹر تک محدود ہیں ،جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ کیا عدلیہ کی مداخلت سے انتظامیہ ا ور پارلیمنٹ کمزور نہیں ہوگی؟ اس کے بعد کیس میں کچھ دیر کے لیے وقفی کیا گیا وقفے کے بعد ایک بار پھر لانگ مارچ کے حوالے سے کیس کی سماعت ہوئی –

 

دوبارہ سماعت پر چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے تازہ صورتحال کےبارے میں آگاہ کیا،سپریم کورٹ نے دھرنے سے متعلق درخواست غیر مؤثر ہونے پر نمٹا دی،عدالت نے کہاکہ اگر حالات خراب ہوئے تو نئی درخواست دائر کی جاسکتی ہے-تاہم عدالت نے حکومت کو کسی بھی قسم کا کوئی آرڈر فوری طور پر جاری کرنے سے انکار کردیا اور کہا کہ اگر حالت حکومت کے کنٹرول سے باہر ہوتے نظر آئے تو پھر عدلیہ اپنا بھرپور کردار ادا کرے گی -اس کے بعد عدلت نے حکومتی درخواست غیر موثر ہونے پر نبٹا دی –