پاکستان میں اپریل کے بعد سے ملکی حالات میں وہ وہ تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں جن کے بارے میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا اسی میں سب سے اہم اور حساس معاملہ نئے آرمی چیف کی تعیناتی تھا اب اس کی تعیناتی کے لیے بھی عدالت سے مدد لینے کا فیصلہ لیا گیا ہے اگر یہ فیصلہ ہوجاتا ہے کہ سئنیر موسٹ آرمی جنرل اگلا آرمی چیف بنے گا تو ملک بہت سے تنازعات سے نکل سکتا ہے کیونکہ جب سے عدلیہ میں سئنیر ترین جج چیف جسٹس کا حلف لینے لگے ہیں وہاں کسی قسم کی الجھن نہیں ہے اور کوئی پارٹی اس پر اعتراض بھی نہیں کرسکتی
آج نئے آرمی چیف کی سینیارٹی کے لحاظ سے تعیناتی کے حوالے سے لاہور ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی گئی درخواست ایڈووکیٹ نجمہ احمد نے دائر کی تھی۔ درخواست میں دعویٰ کیا گیا کہ آرمی چیف کی تقرری کا موجودہ طریقہ کار ’غیر قانونی اور غیر آئینی‘ ہے۔ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس فیصل زمان خان (آج) بدھ کو درخواست کی جنھوں نے یہ کہ کر درخواست مسرعد کردی کہ سپریم کورٹ کے ہوتے ہوئے ہائی کورٹ اس درخواست کو انٹرٹین نہیں کرسکتی اس طرح ایک بہت بڑے بحران سے پاکستان کچھ وقت کے لیےباہر نکل آیا اب اگر سپریم کورٹ اس پر کوئی فیصلہ دیتی ہے تو پھر آسٹیبلشمنٹ کا ری ایکشن بھی دیکھنا ہوگا جس کا کسی طرح کا ردعمل بھی آسکتا ہے ۔

 

درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ اعلیٰ عدالتوں کے ججز کی تقرری سنیارٹی کی بنیاد پر کی جاتی ہے لیکن چیف آف آرمی اسٹاف کے انتخاب میں اس اصول کو نظر انداز کیا گیا۔ لہٰذا، درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ وہ جواب دہندگان کو سینئر ترین افراد کو آرمی چیف مقرر کرنے کی ہدایت کرے۔

 

 

موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نومبر کے آخری ہفتے میں ریٹائر ہونے والے ہیں۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ نئے آرمی چیف کے انتخاب کا عمل جمعہ سے شروع ہو گا، ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کی وزارت پانچ نام وزیراعظم کو بھجوائے گی، جو فہرست میں سے ایک شخص کا انتخاب کریں گے۔