عمران خان نے آرمی چیف کی تعیناتی کے معاملے پر بیک فٹ پر کھیلنے کا فیصلہ کرلیا صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہم آرمی کے معاملات میں مداخلت نہیں کریں گے بلکہ ان کو پورا میدان دیں گے اسی لیے ہم آرمی چیف کی تعیناتی کے معاملے میں پیچھے ہٹ گئے ہیں، پیچھے بیٹھ کر سب دیکھ رہے ہیں۔چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے کہا کہ نواز شریف چاہتا ہے کہ کوئی ایسا آرمی چیف آئے ان کے معاملات اور کیسز کا خیال رکھے۔انہوں نے کہا کہ کوئی آرمی چیف ایسا نہیں آئے گا جو ادارے، ریاست اور عوام کی آواز کے خلاف جائے ۔

 

 

جیو نیوز میں ان کے خلاف چلائی جانے والی کیمپین پر بات کرتے ہوئے خان کا کہنا تھا کہ توشہ خانہ کیس پر دبئی، لندن اور پاکستان میں متعلقہ افراد کے خلاف کیس کریں گے۔توشہ خانہ کیس میں جو سامان فروخت کیا وہ اسلام آباد میں فروخت کیا ان تمام کی رسیدیں توشہ خانہ میں موجود ہیں۔ توشہ خانہ سے متعلق جب عدالت میں ثبوت لے کر جائیں گے تو یہ کیس ختم ہوجائے گا

امریکا سے تعلقات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ امریکا سے لڑائی نہیں، مثبت اور بہتر تعلقات چاہتا ہوں۔ان کا مذید کہنا تھا کہ امریکا کے معاملے پر بیان کو غلط طریقے سے پیش کیا گیا۔ امریکا نے میری حکومت گرائی تھی مگر ملکی مفاد کی وجہ سے ان سے اچھے تعلقات قائم رہیں گے۔