سپریم کورٹ میں عمران خان کی نیب ترمیم کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں بنچ نے کیس کی سماعت کی- جس پر اعلیٰ عدلیہ کے جج کے بہت سخت ریمارکس آئے انھوں نے موجودہ حکومت کی جانب سے کی گئیں ان ترامیم پر بھی حیرت کا اظہار کیا جس کے بعد ملک میں کرپشن کرنے والے خود کو شتر بے مہار سمجھیں گے -جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ دنیا کا کوئی ایسا ملک کرپشن کا حامی نہیں ہو سکتا ، مجھے پرانے نیب قانون میں ترمیم کی کوئی ٹھوس وجہ نہیں ملی،

 

ان کا مذید کہنا تھا کہ کرپشن کو اتنا دردناک جرم بنانا چاہئے کہ کوئی اسے کرنے کی ہمت نہ کرے ، ہوسکتا ہے یہی ثابت ہو نیب ترمیم مخصوص افراد کو فائدہ پہنچا – جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ نیب ترمیم سے اب پیسے معاف کرکے کرپشن چارجز ختم کئے جا رہے ہیں، ٹرائل کے بعد ثابت ہوا ایک شخص کرپٹ ہے یا نہیں تو بنیادی حقوق کیسے متاثر ہونگے؟نیب ترمیم کے بعد ٹرائل اتنا مشکل بنا دیاگیا کہ کرپشن ثابت ہو ہی نہیں سکتی۔ عدالت نے عمران خان کے وکیل کو 17 نومبر تک دلائل مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے مزید سماعت کل تک ملتوی کردی ۔