سعودی عرب میں منشیات کی روک تھام کے لیے انتہائی سخت قوانین ہیں اور ایسے افراد جو منشیات کے مکروہ دھندے میں ملوث پائے جاتے ہیں ان کو موت کی سزا سناکر فوری عمل درآمد بھی کردیا جاتا ہے -اسی سلسلے میں سعودی عرب میں منشیات سمگل کرنے والے 2پاکستانی شہریوں کے سعودی عرب کے شہر ریاض میں سر قلم کر دیئے گئے۔

 

رپورٹ کے مطابق ان پاکستانیوں پر ہیروئن سمگل کرنے کا جرم ثابت ہوا تھا، جنہیں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی طرف سے معافی کے اعلان کے باوجود سزائے موت دے دی گئی۔ شہزادہ محمد بن سلمان کی طرف سے 2ہزار 107پاکستانی قیدیوں کو رہا کرکے پاکستان واپس بھیجنے کا اعلان کیا تھا۔ لیکن اس پر بھی عمل درآمد نہیں کیا گیا اور اب تک صرف 250پاکستانی قیدی ہی رہا کرکے وطن واپس بھیجے گئے ہیں۔ سعودی عرب میں2022 ً میں اب تک 134مجرموں کو سزائے موت دی جا چکی ہے گزشتہ سال اس عرصے میں 69لوگوں کو سزائے موت دی گئی تھی۔ سزائے موت پانے والے 134قیدیوں میں 21پاکستانی، 15یمنی، 5شامی اور 4مصری باشندے شامل تھے۔تاہم سر قلم کیے جانے والے پاکستانیوں کے نام اور شناخت ابھی تک ظاہر نہیں کی گئی –