پاکستان کے ایک بڑے نیوز چینل آے آر وائی نے خبر دی ہے کہ اس بار سردیوں میں گیس کی زبردست قلت کا خدشہ ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ جیسے گرمی میں بجلی نایاب ہوگئی تھی اب سردیوں میں گیس غائب ہوجائے گی اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ پاکستانیوں کی ایک بہت بڑی آبادی کو گیس سلنڈر یا لکڑیوں پر انحصار کرنا پڑے گا – خبر کے مطابق سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ نے ذرائع نے کہا کہ صارفین کو گیس کے بحران کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

 

“اس وقت ملک میں گیس کی پیداوار 750 ملین کیوبک فٹ یومیہ ہے، جبکہ ضرورت تقریباً 1000 ملین کیوبک فٹ یومیہ ہے ۔ذرائع کے مطابق سردی بڑھنے اور درجہ حرارت گرنے کے سبب گیس کی طلب بڑھنے لگی ہے اور شارٹ فال بلند ترین سطح تک پہنچنے کا امکان ہے۔ذرائع نے بتایا کہ اس وقت گیس کی سپلائی 1700 ایم ایم سی ایف ڈی ہے، جب کہ ڈیمانڈ 2500 ملین کیوبک فٹ یومیہ سے بڑھ گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق ‘پنجاب اور خیبرپختونخوا صوبوں میں گھریلو صارفین کو دن میں تین بار گیس ملنے کا امکان ہے جب کہ صنعتی اور تجارتی شعبے کو گیس کی فراہمی مشکل ہو جائے گی’۔ذرائع نے بتایا کہ بہت زیادہ قیمتوں کی وجہ سے درآمدی ایل این جی کے آرڈرز میں کمی کی گئی ہے۔

 

سوئی نادرن گیس ڈیپارٹمنٹ نے گیس کے آنے والے بحران کے بارے میں چیمبرز آف کامرس کو آگاہ کر دیا ہے ۔ذرائع نے مزید کہا کہ گیس کے نئے ذخائر دریافت کرنے پر کوئی توجہ نہیں دی گئی جبکہ گیس کے ہمارے مقامی ذخائر آئندہ چند سالوں میں خشک ہونے کا امکان ہے۔سوئی ناردرن اور سدرن گیس کمپنیوں کا گیس شارٹ فال 1.2 بلین کیوبک فٹ تک بڑھ سکتا ہے۔ گھریلو صارفین کو 350 ایم ایم سی ایف ڈی تک ایل این جی کی سپلائی وزارت نے تجویز کی ہے۔

ذرائع کے مطابق یکم نومبر سے کمرشل صارفین کو گیس کی فراہمی روکنے اور انہیں ایل این جی پر منتقل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔متوقع کمی کے باعث آئندہ موسم سرما میں سی این جی سیکٹر کو گیس کی فراہمی بھی روک دی جائے گی۔پٹرولیم ڈویژن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ گیس لوڈ مینجمنٹ پلان پر یکم نومبر سے عملدرآمد کی تجویز دی گئی ہے، وزیراعظم شہباز شریف کی منظوری کے بعد پلان پر عمل درآمد کر دیا جائے گا۔