آج غازی علم دین کا یوم شہادت ہے -آج سے تقریبا 93 سال قبل آپ کو ایک ہندو راج پال کو قتل کرنے لے الزام میں پھانسی دے دی گئی تھی -علم الدین 4 دسمبر 1908ء بمطابق 8 ذیقعدہ 1366ء کو لاہور پنجاب پاکستان کے کوچہ چابک سوار اں میں طالع مند نامی بڑھئی گھر میں پیدا ہوئے. علم دین نے ابتدائی تعلیم اپنے محلے کے ایک مدرسے میں حاصل کی اورتعلیم سے فراغت کے بعد اپ نے اپنے آبائی پِیشہ کو اختیارکیا۔ آپ کے دو بھائی تھے جن میں سے ایک سرکاری ملازمت کرتے تھے اور دوسرے میاں محمد امین صاحب بھی والد کے ساتھ بڑھئی کا کام کرتے تھے۔
“راجپال” نامی لاہور کے ایک ناشر نے نبی آخرالزماں ﷺ کے خلاف ایک گستاخانہ کتاب “رنگیلا رسول” شائع کی. اس دل آزارعمل نے اہل ایمان کے جذبات کو مجروح کیا اورمسلمانوں میں سخت غم و غصہ پیدا ہوا۔ جب مسلمان رہنماؤں نے اس کتاب کو ضبط کرنے اور ناشر کے خلاف تادیبی کاروائی عمل میں لانے کا مطالبہ کیا تو انگریز حکومت کے مجسٹریٹ نے راجپال کو صرف چھ ماہ قید کی سزا سنائی۔ اس کی علاوہ کتاب کو ضبط کرنے کے مسلمانوں کے مطالبے کو بھی رد کر دیا .

 

بجا ئے کہ راجپال کو سرزنش کی جاتی، دو سپاہی اور ایک حوالدار اسکی حفاظت پر مامور کر دیے گئے اور ساتھ ہی ساتھ روایتی مسلم دشمنی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انگریز حکومت نے دفعہ 144 نافذ کرکے مسلمان رہنماؤں کو گرفتار کرنا شروع کردیا.جس سے مسلمانوں غم و غصے میں بے پناہ اضافہ ہوا

چلا کہ شیدے کو بھی ویسا ہی خواب نظرآیا تھا۔ دونوں ہی کو بزرگ نے راج پال کو قتل کرنے کو کہا۔ دونوں میں یہ بحث چلتی رہی کہ کون یہ کام کرے، کیونکہ دونوں ہی یہ کام کرنا چاہتے تھے۔ پھر قرعہ اندازی کے ذریعے دونوں نے فیصلہ کیا۔ تینوں مرتبہ علم الدین کے نام کی پرچی نکلی تو شیدے کو ہار ماننی پڑی۔ علم الدین ہی شاتمِ رسول ﷺ کا فیصلہ کرنے پر مامور ہوئے۔ اس پر مسلمانوں کی جانب سے نبی پاک ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے کو موت کی سزا کا فتویٰ جاری کیا گیا –

 

اس کے بعد 2 مرتبہ راج پاک کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی مگر وہ دونوں بار بچ گیا – اسی بات نے علم دین کے دل میں بھی یہ بات ڈال دی کہ انھوں نے اس شاتم رسول کا خاتمہ کرے گا -ایک یہ روایت بھی نقل کی جاتی ہے کہ اس ارادے نے اسے بے چین کردیا تھا – ایک رات اس کا دل بہت بے قرار تھا جب ایک رات انہیں خواب میں ایک بزرگ ملے، انہوں نے کہا: پیارے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں گستاخی ہو رہی ہے اور تم ابھی تک سورہے ہو! اٹھو جلدی کرو۔ علم الدین ہڑبڑا کر اٹھے اور سیدھے شیدے کے گھر پہنچے۔ اپریل 1929ء کو لاہور کے نوجوان علم دین ، راج پال کی دکان پر پہنچے اورنہایت سکون سے اسے واصل جنم کرکے خود کو گرفتاری کے لیے پیش کردیا۔ غازی علم دین پر راج پال کے قتل کے الزام میں مقدمہ چلا قائداعظم نے آپ کا مقدمہ لڑا مگر آپ کے اقبال جرم کے باعث ہائی کورٹ نے انہیں موت کی سزا سنادی۔ 31 اکتوبر 1929ء کو میانوالی جیل میں آپ کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا ۔6 نومبر 1929ء کو انہیں لاہور میں میانی صاحب کے قبرستان میں سپردخاک کردیا گیا۔آپ کے جنازے میں اس وقت 6 لاکھ سے زیادہ افراد نے شرکت کی تھی -آج بھی آپ کے مزار پر روزآنہ عقید مند آتے ہیں قرآنی اور فاتحہ خوانی کرتے ہیں اور نعتیں پڑھتے ہیں – اسی احاطے میں آپ کے اہل خانہ کی 30 سے زیادہ قبریں ہیں جن میں آپ کے والد والدہ بہن بھائی اور دیگر رشتہ دار �آسودہ خاک ہیں –