وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے پاکستان تحریک انصاف کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ بیٹھ کر بات کریں اسی میں سیاسی حل نکلے گا ان کا مزید کہنا تھا کہ اس کے مطابق آگے بڑھا جائے ، عمران خان سے کہیں پر کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے ، اگر ایسا کچھ ہوتا تو کیا وہ ایسی گفتگو کرتے پھرتے ۔
وزیر داخلہ نے لانگ مارچ میں شامل ہونے والے افراد کے بارے میں کہا کہ ایک مخصوص طبقہ بد قسمتی سے عمران خان کی گمراہی کا شکار ہے ، اس کا خود کاذہن پاگل پن اور گمراہی کا شکار ہے ، ان کے مارچ کو عوام نے مسترد کر دیا ، یہ

 

7سے 8 ہزار لوگوں سے شروع ہوا ہے ، کچھ اور لوگ شامل ہوئے تو ان کی تعداد نو ہزار تک گئی ، شاہدرہ سے ہی صورتحال انتہائی مایوس کن رہی ۔
رانا ثنااللہ کا کہنا تھا عمران خان گوجرانوالہ پہنچے تو ان کے ساتھ تین سے چار ہزار لوگ تھے ، یہ کہتے ہیں عوامی سمندر ہمراہ ہے ، انھوں نے اپنی پاکستانی قوم سے سوال کیا کہ کیا تین چار ہزار افراد عوامی سمندر ہوتے ہیں ۔

 

یہ تماشہ لے کر چلے ہوئے ہیں، عمران خان ایسی گھٹیا گفتگو کرتا ہے اور اسے یہ گفتگو کرتے شرم بھی نہیں آتی ، گالی گلوچ کے علاوہ ان کے پاس کام نہیں ، یہ کہتے ہیں چوکیدار کی تنخواہ بند کرنی ہے ، عام انتخابات پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ الیکشن جیتنے کی بات تمہیں عام انتخابات میں پتہ چلے گی ۔
ارشد شریف شہید کیس کے بارے میں رانا نے کہا کہ اگر ان کی والدہ کمیشن کے علاوہ کوئی اور طریقہ چاہتی ہیں تو رہنمائی فرمائیں ، ہم چاہتے ہیں کہ ارشد شریف قتل کیس کی تہہ تک پہنچیں –