تحقیقاتی ٹیم، جو صحافی ارشد شریف کے قتل کی تحقیقات کے لیے کینیا بھیجی گئی پاکستانی تحقیقاتی ٹیمننے خرم احمد اور ان کے بھائی وقار احمد سے پوچھ گچھ کی ۔اس بات کا اعلان کینیا کے سرکاری اداروں کی جانب سے کیا گیا نواز شریف کے قتل کی تحقیقات کے لیے وزارت داخلہ نے دو رکنی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی قائم کی تھی۔فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی کے ڈائریکٹر اطہر وحید اور انٹیلی جنس بیورو کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل عمر شاہد حامد سمیت 2 ارکان پر مشتمل تحقیقاتی ٹیم 2 ہفتے تک کینیا میںقیام پزیر رہے گی ۔

 

تفتیشی ٹیم نے وقار اور خرم سے صحافی کے قتل کے بارے میں پوچھ گچھ کی ان دونوں بھائیوں سے پوچھا کہ ان کے ساتھ آخری روز کیا واقعہ پیش آیا اور آخری لمحات میں کیا ہوا ۔ ارشد شریف کینیا میں ان ہی لوگوں کے ً ڈمپ ہاؤس میں 2 ماہ سے رہائش پزیر تھے ۔ذرائع کے مطابق خرم اور وقار نے فائرنگ کے واقعے کو ’غلط شناخت‘ قرار دیا۔ وقار نے ٹیم کو بتایا کہ انہوں نے اپنے دوست کی درخواست پر شریف کی میزبانی کی اور اس بات کو مسترد کر دیا کہ اے آر وائی ڈیجیٹل نیٹ ورک کے صدر اور سی ای او سلمان اقبال نے انہیں صحافی کی میزبانی کرنے کو کہا تھا۔

 

 

وقار نے تحقیقاتی ٹیم کو بتایا، ’’میں ارشد شریف سے صرف ایک بار کھانے پر ملا – انہوں نے مزید کہا کہ اس نے صحافی کو نیروبی کے باہر اپنے لاج میں کھانے پر مدعو کیا تھا۔ “واقعے کے دن ارشد نے ہمارے ساتھ ہمارے لاج پر کھانا کھایا، وہ میرے بھائی خرم کے ساتھ کھانا کھانے کے بعد گاڑی میں چلا گیا اور آدھے گھنٹے بعد گاڑی پر فائرنگ کی اطلاع ملی .
وقار نے تحقیقاتی ٹیم کو بتایا کہ اس کا بھائی خرم معجزانہ طور پر اس واقعے میں بچ گیا اور انہوں نے اس کا آئی پیڈ اور موبائل فون کینیا کے حکام کے حوالے کر دیا۔ دونوں بھائیوں نے پاکستانی تفتیشی افسران کو بتایا کہ مقتول صحافی نیروبی جانے کے بارے میں سوچ رہے تھے اور اس کے لیے اس نے اپنے ویزے کی مدت میں بھی توسیع کے لیے درخواست بھی دائر کی تھی ۔