کل ایک نامور صحافی طارق متین نے اپنے وی لاگ میں ایک عجیب بات کردی ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی حمایت کرنے والے ایک مشہور و معروف شخص کو طاقت ور حلقوں کی جانب سے آمادہ کیا جارہاہے کہ وہ عمران خان کے خلاف لب کشائی کریں تاکہ خان کی مقبولیت کم ہو – طارق متین نے دعویٰ کیا ہے کہ چند دنوں میںآپ ایک اہم شخصیت کو فیصل واڈا کی طرح عمران خان کے خلاف پریس کانفرنس کرتا دیکھیں گے ۔ٹوئٹر پر انہوں نے کہا کہ چار،پانچ دنوں میں ایک اہم شخصیت پریس کانفرنس کرنے جا رہی ہے –

ان کا کہناتھا کہ انہیں کہا جارہا ہے طارق متین نے عوام کو مخاطب کرکے کہا کہ میرے پاکستانیوں آنے والی پریس کانفرنس کو بھی دھبڑ دھوس کرنے کیلئے اسی طرح تیار ہوجاؤ جیسے اپ نے فیصل واوڈا کو ناک آؤٹ کیا تھا ان کا کہنا تھا کہ ویسے بھی آپکا مقابلہ اس طاقت سےہے جو آپکو غلام دیکھنا چاہتی ہے ڈٹ جاناہے اس بار بھی ہمیشہ کی طرح یہ نظام ہار رہا ہے آپکے سامنے۔ان کا کہنا تھا کہ ایک اہم شخصیت کو منا یا جا رہا ہے ،وہ شخصیت کہے گی عمران خان 2018میں مقبول نہیں تھا لیکن اس کو لانچ کیا گیا ، بڑا بنا یا گیا ۔طارق متین نے دعویٰ کیا کہ وہ شخصیت پریس کانفرنس میں کہے گی کہ عمران خان کو ہم نے لانچ کیا اور اس پر معذرت خواہ ہیں۔

اس کے بعد ایک اور صحافی�اجمل جامی نے بھی طارق متین کی بات سے اتفاق کرتے ہوئے کسی شہاب ثاقب کا ذکر کردیا تو یہ بات واضح ہوتی جارہی ہے کہ سپریم کورٹ کے کسی سابقہ جج کو اس مقصد کے لیے دباؤ ڈالا جارہا ہے یا انہیں کہا جارہا ہے کہ آپ اس پر گفتگو کعریں اب دیکھن ایہ ہے کہ یہ جسٹس ان کے آگے ہتھیار ڈالتے ہیں یا خان کے ساتھ بدستور اظہار یکجہتی جاری رکھتے ہیں اس کے لیے ہمیں 4 نومبر تک انتطار کرنا پڑے گا –