کراچی میں جرم کاایک اور افسوسناک واقعہ پیش آیا جب چند شرپسندوں نے عوام کو اپنے ساتھ ملا کر ظلم کی انتہا کردی -جمعے کو ڈاکس تھانے کےعلاقے مچھر کالونی میں ہجوم نے بچوں کو اغوا کرنے کے الزام لگا کر ٹیلی کام کمپنی کے 2 ملازمین انجینئر ایمن جاوید اورڈرائیور اسحاق پنہورکو ڈنڈے، پتھراورسیمنٹ کے بلاکس مار کر قتل کردیا تھا -اس کے بعد بھی ان کے اشتعال کی آگ ٹھنڈی نہ ہوئی تو مشتعل ہجوم میں شامل ان شرپسندوں نے ان بے گناہ مقتولین کی گاڑی کو بھی آگ لگادی تھی۔

 

رات گئے ڈاکس پولیس نے ٹیلی کام کمپنی کے دو ملازمین کے بہیمانہ قتل کے خلاف اور انسداد دہشت گردی کی دفعہ 7اے ٹی اے کے تحٹ مقتول ڈرائیوراسحاق پنہور کے چچا محمد یعقوب کی مدعیت میں مقدمہ درج کرلیا۔ مقدمہ مچھر کالونی میں ہجوم کے ہاتھوں قتل ہونے والے ٹیلی کام کمپنی کے 2 ملازمین کے قتل پر 15 افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ۔مقدمے میں ملزمان محمد حسین ،عثمان ، مالک ، رحمت،مصطفیٰ، رشید بنگالی ، عبدالغفور ،نورافسر،ربیع السلام ،محمد فاروق،فیصل ،عرفان ،شہزاد ،رزاق عرف کالو اورایم رفیق کو نامزد کیا گیا ہے

 

 

جبکہ مقدمے میں200سے250 نامعلوم افراد کو بھی شامل کیا گیا ہے جو ہجوم میں ان 15 افراد کے ورغلانے اور اکسانے پر ان شرپسندوں کے سہولت کار بن گئے تھے ۔