کینیا میں ارشد شریف کی شہادت پر مختلف باتیں منظر عام پر آرہی ہیں ایک طرف پی ٹی آئی حکومت اور اداروں پر اس بہیمانہ قتل کی ذمہ عائید کررہے ہیں تو اداروں نے اپنی انگلیاں عمران کان اور سلمان اقبال پر اٹھادیں -اس پر سلمان اقبال نے خاموشی توڑ کر شدید ردعمل دیا -سلمان اقبال نے کہا کہ میں اپنے بھائی ارشد شریف کے بہیمانہ قتل سے کتنے صدمے اور دل ٹوٹے ہوئے ہوں اس کا کوئی الفاظ بیان نہیں کر سکتا۔ ارشد کی وفات پورے پاکستان اور عالمی سطح پر صحافت کے لیے ایک بہت بڑا نقصان ہے۔

 

 

میرے خیالات ان کے اہل خانہ اور ان تمام لوگوں کے ساتھ ہیں جو سوگوار ہیں۔اسےاپنے کیریئر کے آغاز سے لے کر میں نے ہمیشہ اپنے لوگوں کی حفاظت کے لیے اپنی پوری کوشش کی ہے، اور وہ اس کی ضمانت دے سکتے ہیں۔ پاکستان میں صحافی بننا آسان نہیں ہے۔ ہم سب کو مختلف خطرات کا سامنا ہے اور ان کو کم کرنا میرا کام ہے ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بہت سے صحافیوں کی وفات کے بعد ان کی کفالت وہ خدمت خلق کی غرض سے کررہے ہیں ۔ دہشت گردی میں مارے جانے والے صحافیوں کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ہم نے اپنے ملک کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بہت سے ساتھیوں کو کھو دیا ہے، اور ہم آج تک ان کے خاندانوں کی حمایت اور کفالت کررہے ہیں ۔

 

اے آر وائی کے سی ای او سلمان اقبال نے کہا کہ حکومت اپریل 2022 میں اقتدار میں آنے کے بعد سے میرے خلاف ایک گندی مہم چلا رہی ہے 6 ماہ سے میری زندگی اجیرن کررکھی ہے ، مجھے سونے کا سمگلر اور اسلحے کا سوداگر، دیگر چیزوں کے علاوہ۔ اس کا آغاز مریم نواز سے ہوا، اور یہ مہم موجودہ حکومت کے وزراء کے تحت جاری ہے۔ سلمان اقبال کا کہنا تھا کہ مجھے ارشد کے قتل کی تحقیقات میں ضرور شامل کیا جائے۔ میں موجودہ پی ایم ایل این حکومت کی جانب سے کی جانے والی تحقیقات کی آزادی پر یقین نہیں رکھتا لیکن مجھ سے پوچھے گئے کسی بھی سوال کا جواب دوں گا۔سلمان اقبال نے کہا کہ میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر کے زیر نگرانی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کر رہا ہوں، اور میں یقیناً اس طرح کی کسی بھی تحقیقات میں اپنا مکمل تعاون فراہم کروں گا-اب دیکھتے ہیں کہ حکومت اقوام متحدہ کو اس تحقیقی ٹیم کا حصہ بناتے ہیں یا خود ہی گزشتہ کمیشنوں کی طرح اس پر بھی پردہ ڈال دیتے ہیں -مگر لگتا ہے کہ اس کیس کو چھپایانہیں جاسکے گا