وزیراطلاعات مریم اورنگزیب کو انگلینڈ میں پی ٹی آئی کارکنا ن کی جانب سے اس وقت سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا جب وہ ایک کافی شاپ میں کافی پینے کے کیے نکلی تھیں ۔وزیر اطلاعات کافی خریدنے کے لیے ماربل آرچ اسٹیشن کے قریب ایک کیفے پہنچیں تو پی ٹی آئی کے حامیوں کے ایک گروپ نے وزیر کو گھیر لیا اور ان پر چیخنے چلانے لگے۔ ہجوم مریم اورنگزیب کی ویڈیو بھی بناتا رہا۔
پی ٹی آئی کی خواتین حامی ان پر نامناسب فقرات کستی رہیں ، ساتھ ہی ان پر چور ہونے کا الزام بھی لگاتی رہیں۔کافی شاپ میں چیختے ہوئے ایک خاتون نے دعویٰ کیا: “مریم اورنگزیب پاکستان کا لوٹا ہوا پیسہ لندن میں خرچ کر رہی ہیں۔”

 

پی ٹی آئی کے مظاہرین نے ان کی یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر بھی وائرل کی ۔اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد، مریم نواز کے مسلم لیگ (ن) کے ساتھی مفتاح اسماعیل اور پی پی پی کے شریک چیئرمین آصف زرداری کی صاحبزادی بختاور بھٹو زرداری سمیت نیٹیزین وزیر دفاع کے پاس آئے اور نفرت کو ہوا دینے پر پی ٹی آئی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ اس کے حامیوں کے درمیان بدسلوکی کا پرچار کرنا جو ان لوگوں کو ہراساں کرتے ہیں جو ان کی پارٹی کے نظریے سے متفق نہیں ہیں۔مریم نے خود بھی کافی شاپ میں اس حملے اور ہراساں کیے جانے کا ذکر کیا اور اسے عمران خان کی “نفرت اور تفرقہ بازی کی سیاست” کا “زہریلا اثر” قرار دیا۔

 

مریم نے آج ایک ٹویٹ بھی کیا جس میں لکھا کہ میں نےان کا ڈٹ کر مقابلہ کیا میں وہیں ٹھہری رہی اور ان کے ہر سوال کا جواب دیا۔ افسوس کی بات ہے کہ وہ عمران خان کے بہکاوے میں آئے ہوئے ہیں اور عمران خان کے پروپیگنڈے کا شکار ہیں۔ انھوں نے اس بات کا عزم بھی ظاہر کیا کہ اس کی کی زہریلی سیاست کا مقابلہ کرنے اور لوگوں کو اکٹھا کرنے کے لیے اپنا کام جاری رکھیں گے ۔