�غریب کی جان لو اس کے اہل خانہ کو ڈراؤ دھمکاؤ یا اس شخص کے لہو کی قیمت لگا کر کیس ختم کرواؤ -یہ پاکستان میں سلسلہ 1947 سے شروع ہوا تھا اور اب جب دنیا چاند اور خلا میں پہنچ گئی ہے ہمارے ہاں وہی ریت رواج چل رہے ہیں
میڈیا پر لوگ اور صحافی اس خا ندان کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں پاکستان بھر کی عوام ان کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے اور مقتول کے گھر والے پیسے لے کر خاموشی سے صلح کرلیتے ہیں اور پھر بھی الزام یہی ہوتا ہے کہ انصاف غریب کو کہاں ملتا ہے اور اس بات کا حکومت کو بھی اچھی طرح علم ہے اور امیر لوگوں کو بھی یہی وجہ ہے کہ کہ ملک سے جرم ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا کوئی قدرتی آفت نازل ہویا دھماکہ ہو تو حکومت گھر والوں کے لیے مرنے والے کے لیے رقم کا اعلان کرکے گھر والوں کا منہ بند کروادیتی ہے اور امیر کے ہاتھ سے کوئی مارا جائے تو وہ بھی پیسے دے کر جان چھڑا لیتا ہے –

 

ہمارا فرض ہے کہ جہاں غریبوں کی مدد کے لیے آواز اٹھائیں وہیں اس بات کو یقینی بنائیں کہ کوئی مارے جانے والے بے گناہ کے خون کا سودہ نہین کرے گا انسانی حقوق کی تنظیموں کو یہ کام اپنے ذمے لیان چاہیے وکلاء کو ان لوگوں کا ساتھ دینا چاہیے تاکہ ڈر کر طاقت ور کے خوف سے یا پیسے کے لالچ میں آکر مارے جانے والے معصوم کے خون کا سودا نہ ہو -مگر ایسا ہو نہیں رہا اس کی تازہ مثال آج سندھ سے آنے والی یہ خبر ہے جہاں ایک سندھی بھائی کو صرف سچی بات کی ویڈیو شئیر کرنے پر موت کی نیند سلا دیا گیا تھا

 

 

ورثا کی جانب سے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ملیر کی عدالت میں صلح نامہ جمع کرادیا گیا، عدالت نے قانونی ورثاءسے متعلق اخبار میں اشتہار شائع کرنے اور نادرا کو آئندہ سماعت پر رپورٹ پیش کرنے کا حکم بھی دیا۔کراچی ملیر کورٹ میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ملیر کی عدالت میں ناظم جوکھیو قتل کیس کی سماعت ہوئی، مقدمے میں اہم پیشرفت اس وقت ہوئی جب ملزمان اور ورثا کے درمیان صلح ہوگئی۔ورثا نے بتایا کہ ہماری ملزمان کے ساتھ صلح ہوچکی ہے مقدمہ ختم کرنے پر کوئی اعتراض نہیں، حلف نامہ ناظم جوکھیو کی والدہ، بیوہ اور بچوں کی جانب سے جمع کرایا گیا۔
عدالت نے نادرا سے بھی آئندہ سماعت تک رپورٹ طلب کرلی، مقدمے میں پپلزپارٹی کے رکن سندھ اسمبلی جام اویس سمیت 6 ملزمان گرفتار ہیں۔واضح رہے کہ ملزمان پر آج فرد جرم عائد ہونی تھی تاہم عدالت نے کیس کی مزید سماعت 15 اکتوبر تک ملتوی کردی۔