سندھ کے شہر کراچی میں امن و عامہ کی صورتحال کتنی مخدوش ہوگئی ہے اس کااندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ ڈاکووں نے ایک پولیس اہل کا کو ہی بینک کے باہر سے لوٹ لیا – کراچی پولیس کے ڈی ایس پی سعید جبار بینک سے 8 لاکھ روپے نکلوا کر جا رہے تھے کہ ڈاکوؤں نے ان کا تعاقب کیا اور سٹیڈیم رود پر ڈالمیا کے قریب پولیس افسر کو لوٹ لیا۔ ملزمان نے اسلحے کے زور پر ڈی ایس پی سعید جبار کو لوٹا اور فرار ہو گئے ۔ پولیس کے مطابق واقعے کا مقدمہ درج کرلیا گیا ہے جبکہ سی سی ٹی وی فوٹیجز حاصل کی جا رہی ہیں ۔

 

شہر قائد میں ڈکیتی ، راہزنی اور قتل و غارت گری کی بڑھتی وارداتوں پر گزشتہ دونوں ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کے ارکان نے بھی تشویش کا اظہار کیا تھا ، خواجہ اظہار الحسن نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ہ 6 ماہ میں 800 سے زائد افراد ڈکیتی وارداتوں کے دوران قتل ہو گئے ، انھوں نے اپنی ہی اتحادی جماعت پر تنقید کی تھی اور کہا تھا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے جرائم پیشہ افراد کو قتل و غارت کا لائسنس دیدیا گیا ہو ، انہوں نے پیپلز پارتی کے طرز حکومت کو بھی ان جرائم کا ذمہ دار قرار دیا تھا ان کا کہنا تھا کراچی کے تمام پولیس افسران سیاسی ہیں ۔

 

خواجہ اظہار الحسن نے اس بات پر بھی تنقید کی تھی کہ وزیر اعلیٰ نے وزارت داخلہ اپنے پاس رکھی ہوئی ہے ، ان سے نہ وزارت اعلیٰ چل رہی ہے نہ وزارت داخلہ ، پولیس چیف کی تاجروں سے گفتگو تکلیف دہ تھی ، کراچی پولیس چیف نے ڈاکوؤں کو بری الذمہ قرار دیدیا، ایک ہوٹل میں 11 مسلح افراد آئے اور سب کو لوٹ کر چلتے بنے ۔
آج ان کی اس بات کا وزن اور بڑھ گیا ہےآپ کود فیصلہ کرلیں کہ جس شہر میں پولیس والے محفوظ نہ ہوں وہاں عام آدمی کا کیا حال ہوگا؟