وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات احسن اقبال نے چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا � اگر وہ ملک میں قبل از وقت انتخابات چاہتے ہیں تو پنجاب اور خیبرپختونخوا کی اسمبلیاں تحلیل کردیں۔ “آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ” میں گفتگو کرتے ہوئے احسن اقبال کا کہنا تھا کہ عمران خان یہ کہنے کی حد تک چلے گئے ہیں کہ “شیروں کی فوج پر گیدڑ کی حکمرانی نہیں ہو سکتی”۔

 

 

انہوں نے کہا کہ قوم نے عمران خان کے جھوٹ کی داستان واضح طور پر دیکھ لی ہے۔ پی ٹی آئی کے ماضی کے لانگ مارچ اور دھرنوں کا ذکر کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کے عوام پی ٹی آئی کا ساتھ نہیں دیں گے اور جو لوگ اس پارٹی کو بینک رول کرتے ہیں وہ ملک میں افراتفری پھیلانے کے لیے اسے مینڈیٹ دیتے ہیں۔نواز شریف کے اگلے آرمی چیف کی تقرری سے متعلق عمران خان کے ریمارکس پر ردعمل دیتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ انہیں نواز شریف کا مقرر کردہ آرمی چیف اتنا پسند آیا کہ انہوں نے قمر باجوہ کو تین سال کی توسیع دے دی۔ اب وہ نواز شریف کے فیصلے پر سوال کیسے اٹھا سکتے ہیں؟ .

احسن اقبال نے اس بات کی تصحیح بھی کی کہ کہا جارہا ہے کہ نواز شریف اگلے آرمی چیف کی تقرری کے اہل نہیں، انہوں نے کہا کہ یہ بات درست ہے ‘تعیناتی کا فیصلہ نواز شریف نہیں کریں گے، ان کے چھوٹے بھائی شہباز شریف کریں گے’جو اس وقت وزیر اعظم ہیں ۔عمران خان کے قبل از وقت انتخابات کے مطالبے کا جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ اگر وہ انتخابات چاہتے ہیں تو پنجاب اور خیبرپختونخوا کی حکومتیں تحلیل کردیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر وہ ایسا کرتا ہے تو وہ اپنے مطالبے کے ایک قدم اور قریب جائے گا، انہوں نے مزید کہا کہ وہ حکومتوں سے الگ نہیں ہونا چاہتے۔

 

 

ان کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان اپنی حکومت کھونے کے دھچکے سے نہیں سنبھل سکے۔ وزیر نے دعویٰ کیا کہ عمران خان اپنی ذاتی لڑائی کو ملک کی تباہی میں بدل رہے ہیں، قوم کو بہت بڑی مصیبت کا سامنا ہے۔ انہوں نے سیلاب متاثرین کے لیے ہر طرح کے وسائل کھولنے کی ضرورت پر زور دیا۔ایک موقع پر پروگرام کے میزبان نے بھی احسن اقبال کو نہ بخشا اینکر کا کہنا تھا کہ ملک میں تین چیزیں عروج پر ہیں: ڈالر، مہنگائی اور وزیر اعظم شہباز شریف کی کابینہ جس کے ارکان کی تعداد 72 ہو گئی ہے، جن میں سے 24 کے پاس کوئی قلمدان نہیں ہے اس بات کا اھسن اقبال کے پاس کوئی بھی جواب نہیں تھا ۔