اسلام آباد: ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان نے پیراسیٹامول کی قلت کے درمیان پیراسیٹامول بنانے والی کمپنیوں کو ایک بڑی سہولت کی پیشکش کی ہے۔
پاکستان کو اس وقت گولیوں اور سیرپ کے ساتھ ساتھ انجیکشن کی شکل میں پیراسیٹامول کی شدید قلت کا سامنا ہے ایک ایسے وقت میں جب ملک میں ڈینگی بخار نے تباہی مچا رکھی ہے اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں لوگ ملیریا، ٹائیفائیڈ کی وجہ سے بیمار ہو رہے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق ڈریپ نے پیراسیٹامول بنانے والی مقامی کمپنیوں کو پیشکش کے بارے میں آگاہ کر دیا ہے اور ان سے پیراسیٹامول دوبارہ تیار کرنے کی اپیل کی ہے۔

Half of all safety warnings issued to drug manufacturers in India and China  - The Pharmaceutical Journal

Image Source: TPJ

ذرائع کا کہنا ہے کہ پیراسیٹامول بنانے والی مقامی کمپنیوں کو ری پروڈکشن پر بڑی سہولت ملے گی، کمپنی کو محدود مدت میں 15 ہزار پیراسیٹامول پیکٹ تیار کرنے ہوں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کمپنی کو 30 لاکھ پیراسیٹامول گولیاں مارکیٹ میں لانی ہوں گی، اگر یہ کام مکمل ہو جاتا ہے تو کامیاب کمپنی فوری طور پر ڈریپ کے ساتھ فارما پراڈکٹ کی رجسٹریشن کر سکے گی۔
ان کا مزید کہنا ہے کہ تقریباً 70 کمپنیوں کے پاس پیراسیٹامول گولیاں بنانے کا لائسنس ہے اور 70 میں سے زیادہ تر دوا ساز کمپنیاں اب پیراسیٹامول نہیں بنا رہی ہیں۔
ڈریپ ذرائع کا کہنا ہے کہ 40 سے زائد کمپنیاں اس پیشکش سے فائدہ اٹھانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پیراسیٹامول کمپنیوں کی جانب سے ایک ہفتے میں جواب موصول ہونے کا امکان ہے۔