ایک ٹی وی نیوز رپورٹ کے مطابق سیلاب سے متاثرہ ریلوے ٹریک کی وجہ سے تینوں شہروں لاہور، کوئٹہ اور کراچی کے درمیان ٹرینیں چلانے کا فیصلہ ایک بار پھر مؤخر کر دیا گیا ہے جس کی وجہ سے ریلوے کو اب تک 90
بلین روپے کا خسارہ برداشت کرنا پڑا ہے ۔اس کے بعد ٹرین ٹکٹوں کی آن لائن بکنگ اور ریزرویشن کا عمل روک دیا گیا جبکہ تمام کمرشل افسران کو ساتوں ڈویژنوں کی بکنگ روکنے کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا۔

 

حکام کے مطابق ریلوے ٹریکس اور پلوں کو فٹ قرار دینے کے بعد ہی مسافر اور مال بردار ٹرینیں چلائی جائیں گی۔ملک بھر میں تباہ کن سیلاب کی وجہ سے ٹرین آپریشن تقریباً ایک ماہ سے مکمل طور پر معطل ہے۔ریلوے ٹریکس، سگنل سسٹم اور پلوں کے معائنہ کا عمل فی الحال جاری ہے۔

ایڈیشنل جنرل منیجر ریلوے انفراسٹرکچر ارشد سلام خٹک نے کہا ہے کہ انسپکشن ٹیم کی جانب سے صورتحال کو تسلی بخش قرار دینے کے بعد ہی ٹریوں کی آمد ورفت کا سلسلہ دوبارہ شروع کرنا ممکن ہو گا۔