پاکستان میں جب سے عمران خان کی حکومت گئی ہے مہنگائی کا جن بوتل سے باہر آگیا پٹرول اور بجلی کی قیمتوں کو بھی پر لگ گئے جس پر غریب عوام کا جینا محال ہوگیا مہنگائی مکاؤ کا دعویٰ کرنے والی حکومت غریب مکاؤ مہم پر چل پڑی تو عوام کی اس حالت زار پر ہائی کورٹ کو رحم آگیا اور عدلیہ نے حکومت کو ہر ماہ بجلی کے ریٹس بڑھا کر عوام کا خون چوسنے سے روک دیا اور کہا کہ حکومت عدلیہ کو بتا ئے کہ بجلی کے بلوں میں اس اضافے کا حکومت کے پاس کیا جوازہے ؟ لاہورہائی کورٹ نے بجلی کے بلوں میں فیول ایڈجسٹمنٹ سے متعلق حکم امتناعی میں 15 ستمبر تک توسیع کردی۔ لاہورہائیکورٹ میں بجلی کے بلوں میں فیول ایڈجسٹمنٹ کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت ہوئی۔ جسٹس علی باقر نجفی نے شہریوں کی درخواستوں پر سماعت کی۔

 

عدالت نے نیپرا کے وکیل سے مزید دلائل طلب کرلیے ۔ عوام کی جانب سے درخواست دائر کی گئی تھی کہ بجلی کے بلوں میں بلا جواز ٹیکس عائید کرکے عوام کو لوٹا جارہا ہے درخواست میں وفاقی حکومت،واپڈا سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست گزار نے عدالت میں موقف اختیار کیا ہے کہ نیپرا بجلی کے بلوں میں ٹیکس غیر قانونی وصول کررہا ہے۔ بجلی کے بلوں میں فیول پرائس ایڈجسمنٹ غیرقانونی اورغیرآئینی ہے،عوام 50 روپے فی یونٹ کے حساب سے بجلی کے بل دینے پرمجبورہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ فیول پرائس ایڈجسمنٹ کو غیرقانونی قراردیا جائے۔